اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور حتمی معاہدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
عرب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران یورینیم کو ملک سے باہر بھیجنے کے بجائے اس کی افزودگی کی سطح کم کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نیوکلیئر فائل، منجمد اثاثوں اور لبنان کے معاملے پر تین تکنیکی ورکنگ گروپس کام کریں گے، جو متعلقہ امور پر سفارشات اور پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔
نائب وزیراعظم کے مطابق آبنائے ہرمز سے جہاز 60 روز تک بغیر کسی ٹیرف کے گزر سکیں گے، تاہم انہیں صرف معیاری نیوی گیشن یا سروس فیس ادا کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ چین بھی اس اقدام کی حمایت کر رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ زیادہ پیچیدہ ہو سکتا ہے، تاہم ڈیل میں کوئی منفی نکتہ شامل نہیں کیا گیا، اس لیے حتمی معاہدہ ممکن ہے۔




