کراچی: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر تیزی سے عمل پیرا ہے اور اسی سلسلے میں مزید 28 ریاستی اداروں کی نجکاری کی جا رہی ہے، جبکہ برآمدات پر مبنی معیشت کے فروغ کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
کراچی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کا اختتام مالیاتی اور تجارتی سرپلس کے ساتھ ہوا، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ ان کے مطابق مالی سال کے دوران پاکستان کو 41 سے 42 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں، جنہوں نے معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ بینکاری کا شعبہ معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی ترقی میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کے لیے سپر ٹیکس کا خاتمہ ضروری تھا، جبکہ ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ٹیکس نیٹ میں توسیع وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پائیدار اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔




