اسلام آباد: سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی اقدامات کے خلاف پاکستان کی سیاسی قیادت نے مشترکہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبی معاملات پر کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔
وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے بھارت کو شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب ذرائع بروئے کار لائے گا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان ہر قیمت پر سندھ طاس معاہدے کا دفاع کرے گا، کیونکہ یہ ملک کی آبی، غذائی، توانائی اور قومی سلامتی سے براہِ راست جڑا ہوا معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی یکطرفہ کارروائی اور دباؤ کی حکمت عملی قابل قبول نہیں۔
چیئرمین واپڈا نے خبردار کیا کہ مغربی دریاؤں پر نئے منصوبوں کے حوالے سے بھارتی اقدامات خطے میں آبی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان، ڈاکٹر شرمیلا فاروقی، پلوشہ خان، بیرسٹر عقیل اور بلال اظہر کیانی سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی اقدامات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔




