قومی اسمبلی کے 17ویں بجٹ اجلاس کے دوران صرف 78 اراکین (25 فیصد) نے مکمل حاضری یقینی بنائی، جبکہ 10 اراکین (3 فیصد) ایک بھی اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔ یہ بجٹ اجلاس 5 سے 27 جون 2025 کے دوران منعقد ہوا، جس میں 13 سے زائد نشستیں شامل تھیں۔
دلچسپ بات یہ رہی کہ 22 خواتین اراکین نے بجٹ اجلاس کی تمام نشستوں میں شرکت کی، جو حاضری میں نمایاں رہیں۔ اس کے برعکس، 79 اراکین اجلاسوں سے غیر حاضر پائے گئے، جس پر اراکین نے خاص طور پر حکومتی وزرا کی عدم شرکت پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
حاضری کا اتار چڑھاؤ
اجلاس کی پہلی نشست، جب فنانس بل 2025 پیش کیا گیا، اس میں حاضری 83 فیصد رہی، تاہم جیسے جیسے عام بحث آگے بڑھی، دلچسپی کم ہوتی گئی، اور تیسری نشست میں حاضری گر کر 57 فیصد تک آ گئی۔ عام بحث کے آخری دن، جب سینیٹ کی سفارشات اور چارج شدہ اخراجات پر بحث ہوئی، حاضری دوبارہ 79 فیصد تک پہنچ گئی۔
اراکین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بجٹ جیسے اہم اجلاسوں میں حکومتی وزرا کی شرکت لازمی ہے تاکہ پالیسی سازی اور بجٹ سفارشات پر سنجیدہ تبادلہ خیال ممکن ہو۔
0 9 1 minute read




