نئی دہلی :بھارتی پارلیمنٹ میں بہار میں نافذ کیے گئے متنازعہ "اسپیشل انٹینسیو ریویژن” (SIR) قانون پر شدید احتجاج جاری ہے، جس پر اپوزیشن جماعتوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے اس قانون کو جمہوری اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے ممکنہ طور پر انتخابی بائیکاٹ کی دھمکی بھی دے دی ہے۔
راہول گاندھی کی الیکشن کمیشن پر تنقید
کانگریس کے رہنما اور قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے اس معاملے پر الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔
راہول گاندھی نے الزام عائد کیا کہ بہار میں 60 سال کے ہزاروں "نئے ووٹرز” کا اندراج ایک منظم دھاندلی کی سازش کا حصہ ہے، جس کا مقصد ووٹوں کی چوری کرنا ہے۔
کرشنا الاوارو کا سخت موقف
کانگریس کے بہار انچارج کرشنا الاوارو نے ایس آئی آر پالیسی کو "آمرانہ عمل” قرار دیتے ہوئے کہا:
"یہ پورا عمل ووٹوں اور الیکشن چوری کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، اور یہ صرف بہار کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے بھارت میں اس طرح کی سازشیں جاری ہیں۔”
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن کی جاری کردہ رپورٹ میں 60.1 لاکھ ووٹرز کو "وفات یافتہ”، "منتقل شدہ” یا "دوہری رجسٹریشن” والے قرار دیا گیا ہے، جو مکمل طور پر غلط اور مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔
ایس آئی آر پالیسی کے تحت ووٹر لسٹ کی نظرثانی کو بھارتی اپوزیشن نے "جمہوری اصولوں کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت اقلیتی گروپوں کے ووٹروں کو فہرست سے نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے بھارت میں اقلیتوں کے حقوق پر حملہ سمجھا جا رہا ہے۔
یہ پالیسی "این آر سی” اور "سی اے اے” کے بعد اقلیتوں کو شہریت سے محروم کرنے کی کوششوں کا تسلسل قرار دی جا رہی ہے۔
تیجسوی یادیو نے بہار اسمبلی انتخابات کے بائیکاٹ کے بارے میں کہا”ہمیں تمام آپشنز پر غور کرنا ہو گا، بشمول انتخابی بائیکاٹ۔”
اسی طرح، گورو گوگوئی، ڈپٹی لیڈر لوک سبھا نے کہا کہ حکومت کی خاموشی عوام کے ووٹ چھیننے کا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود حکومت کے ردعمل کی عدم موجودگی سے واضح ہوتا ہے کہ عوامی رائے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
مودی حکومت پر الزامات
کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت پر یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ وہ بھارت کو "ہندوتوا” کے نظریے کے تحت ایک انتہا پسند ریاست میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اپوزیشن کے مطابق، یہ اقدامات بھارتی جمہوریت اور آئین کے خلاف ہیں، اور اگر یہ پالیسیز برقرار رہیں تو ملک میں سیاسی و سماجی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
نتیجہ
بہار میں ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے معاملے پر اپوزیشن کا احتجاج اور انتخابی بائیکاٹ کے امکانات بھارت کی سیاسی فضاء میں نیا بحران پیدا کر رہے ہیں۔ اس متنازعہ قانون کے خلاف جاری احتجاج سے بھارت میں جمہوری اصولوں کی پامالی اور اقلیتی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔




