خیبرپختونخوا میں معدنیات سے متعلق سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں فوج کے کردار پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق صوبے کے قدرتی وسائل پر مبینہ طور پر عسکری ادارے قابض ہو رہے ہیں۔ تاہم جب زمینی حقائق اور سرکاری اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ الزامات حقائق سے زیادہ افواہوں پر مبنی ہیں۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق، خیبرپختونخوا میں اب تک 3,900 سے زائد مائننگ لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک لائسنس فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو دیا گیا، جو شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں 2015 میں جاری ہوا۔
یہ وہ وقت تھا جب شمالی وزیرستان حالیہ فوجی آپریشنز کے بعد سکیورٹی کے شدید مسائل سے دوچار تھا، اور کوئی سرمایہ کار یا نجی کمپنی وہاں سرمایہ کاری پر آمادہ نہ تھی۔
یہ بھی قابل ذکر بات ہے کہ بویا کے علاوہ صوبے کے کسی حصے میں فوج، ایف ڈبلیو او یا کسی بھی عسکری ادارے کو معدنیات کا کوئی لائسنس یا لیز حاصل نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صوبے کی مائننگ انڈسٹری میں فوج کا کردار انتہائی محدود بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جب ایف ڈبلیو او نے اپنی سرگرمیاں ختم کرنے کا عندیہ دیا تو مقامی قبائل اور رہائشیوں نے خود درخواست کی کہ اس پروجیکٹ کو بند نہ کیا جائے، کیونکہ اس سے علاقے میں روزگار، ترقی، اور استحکام آیا تھا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی حالیہ اجلاس میں واضح طور پر کہا میں حلفاً کہتا ہوں کہ مائنز اور منرلز بل پر میری آج تک کور کمانڈر سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ مجھے افسوس ہے کہ یہ بل پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست کی نذر ہو گیا، حالانکہ اس سے سب سے زیادہ فائدہ خیبرپختونخوا کے عوام کو ہونا تھا۔”
خیبرپختونخوا حکومت کی خواہش ہے کہ ایف ڈبلیو او اور این ایل سی جیسے ادارے اپنی تکنیکی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے کان کنی کے منصوبوں میں حصہ لیں۔ تاہم فوج یا ان اداروں کی طرف سے کوئی نئی درخواست یا شمولیت کی دلچسپی ظاہر نہیں کی گئی۔
خیبرپختونخوا کے پہاڑی، دور افتادہ اور سکیورٹی کے لحاظ سے حساس علاقوں میں کان کنی ایک مہنگا اور خطرناک کام ہے۔ اس کے لیے نہ صرف بڑی سرمایہ کاری بلکہ تکنیکی مہارت بھی درکار ہوتی ہے، جو ہر نجی کمپنی کے بس کی بات نہیں۔
یہ تاثر دینا کہ فوج خیبرپختونخوا کی معدنیات پر قابض ہو رہی ہے، ایک بے بنیاد دعویٰ معلوم ہوتا ہے۔ ریاست مخالف عناصر اس قسم کے پراپیگنڈے سے نہ صرف اداروں پر سوالات اٹھاتے ہیں بلکہ فوج کے امن و امان کے قیام میں مثبت کردار کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں، جو اس وقت صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف ایک اہم جنگ میں مصروف ہے۔
معدنیات پر عوام کا حق مسلمہ ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ تاہم ریاستی اداروں کو بدنام کرنے اور قومی سلامتی کو متنازع بنانے کے بجائے، ضروری ہے کہ پالیسی سازی اعداد و شمار، مشاورت، اور شفافیت کی بنیاد پر ہو — نہ کہ افواہوں اور سیاسی بیانیے پر۔




