اسلام آباد : وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر پاور منصوبے کو ایک سال کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ وہ خود اس منصوبے کی نگرانی کریں گے تاکہ اس کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ منصوبہ گلگت بلتستان میں کم لاگت اور ماحول دوست بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اسے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ منصوبے کے تمام انفراسٹرکچر کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے کلائیمیٹ ریزیلینٹ بنایا جائے گا۔
گذشتہ دنوں وزیرِ اعظم کے دورہ گلگت کے دوران اس منصوبے کی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ایکنیک) نے اسے منظور کرتے ہوئے منصوبے کی تعمیر میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔
وزیرِ اعظم نے منصوبے کی مکمل لاگت وفاقی حکومت کی طرف سے فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے گلگت بلتستان کے لوگ طویل عرصے سے جاری لوڈ شیڈنگ سے نجات حاصل کریں گے اور دو دراز علاقوں میں بھی سولرائزیشن کے ذریعے بجلی کی فراہمی ممکن ہوگی۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچاؤ کے لیے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو توانائی کے مجموعے میں شامل کرنے پر زور دیا اور ہدایت دی کہ ہائیڈل اور سولر ذرائع سے بجلی کی فراہمی کو اس طرح یقینی بنایا جائے کہ شدید موسم میں بجلی کے تعطل سے بچا جا سکے۔
وزیرِ اعظم نے منصوبے میں شفافیت کو یقینی بنانے کی بھی تاکید کی اور منصوبے کی اسٹرینگ کمیٹی کی صدارت وزیرِ بجلی سردار اویس خان لغاری کو سونپ دی۔
آج اسلام آباد میں وزیرِ اعظم کی زیر صدارت جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزراء، وزارت توانائی کے حکام اور قابل تجدید توانائی کے ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ گلگت میں 6، سکردو میں 8 اور دیامر میں 6 سولر پارکس قائم کیے جائیں گے جبکہ مختلف اضلاع میں سولر پینلز کی تنصیب بھی کی جائے گی۔
منصوبے میں بیٹری بیک اپ اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ کے نظام بھی شامل کیے جا رہے ہیں تاکہ بجلی کی فراہمی کو مستحکم بنایا جا سکے۔ اجلاس میں منصوبے کی کل لاگت اور معینہ مدت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔




