اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن ممبران نے چیئرمین کے ڈائس کے قریب پہنچ کر احتجاج شروع کر دیا، جس کے دوران "نااہلی نامنظور” کے نعرے لگائے گئے اور حکومتی ارکان کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی۔
شیری رحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے سی پیک منصوبے کو نقصان پہنچایا اور چینی صدر کے دورے کے موقع پر ڈی چوک پر احتجاج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان میں برداشت کی کمی ہے اور ہمیں کوئی خارجہ پالیسی سکھانے کی ضرورت نہیں۔
شیری رحمان نے پرویز مشرف کے دور میں پی ٹی آئی کے دستخطوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کے دور میں سختیاں برداشت کی گئیں۔ انہوں نے مریم نواز اور فریال تالپور کی گرفتاریوں کی مثالیں دیں اور کہا کہ پیپلزپارٹی کے دور میں سیاسی نااہلی نہیں ہوئی۔
سینیٹر نے سابق صدر آصف زرداری کے بارے میں کہا کہ انہوں نے 12 سال قید کاٹنے کے باوجود قانون کا احترام کیا اور پولیس اہلکاروں کو چائے پلائی۔ انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اس وقت کبھی 9 مئی جیسے واقعات یا چھاؤنی پر حملے نہیں ہوئے۔
شیری رحمان نے اپوزیشن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار لازمی ہے اور ایوان میں گالم گلوچ کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ نے کہا تھا کہ اپوزیشن کو "برف پر لٹایا جائے گا”۔
انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں انہیں مسنگ پرسن بنایا گیا اور پی ٹی آئی کی عدم برداشت نے ان کے سوشل میڈیا صفحات کو نقصان پہنچایا۔




