نئی دہلی:بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے انتہا پسندانہ ہندوتوا نظریات اور جھوٹے بیانیے کے ذریعے ملکی عوام کو یرغمال بنا کر اقتدار کی کرسی سنبھال رکھی ہے، جس کی بھاری قیمت عام عوام اور معیشت کو چکانی پڑ رہی ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق مودی کی ان پالیسیوں نے ملک کو شدید معاشی و سماجی بحران میں دھکیل دیا ہے۔
معروف برطانوی و بھارتی جریدے دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق نریندر مودی کی ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث بھارتی روپیہ مسلسل گر رہا ہے، ملکی سرمایہ باہر جا رہا ہے اور نجی سرمایہ کاری کا جنازہ نکل چکا ہے۔ عالمی حالات کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر شدید دباؤ میں ہیں، لیکن اس کے باوجود مودی حکومت ملکی خزانے کی بے پناہ رقم عام عوام پر خرچ کرنے کے بجائے مودی کی ذاتی تشہیر اور انہیں ایک "عظیم انسان” بنا کر پیش کرنے پر پانی کی طرح بہا رہی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نریندر مودی اور ان کے وزیر داخلہ امت شاہ اپنے ذاتی اور سیاسی فائدے کے لیے الیکشن کمیشن سمیت تمام خودمختار ریاستی اداروں کو کٹھ پتلی کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔ مودی کو اقتدار میں رکھنے کے لیے آزاد صحافت کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے اور "گودی میڈیا” (حکومت نواز میڈیا) کے ذریعے دن رات مودی کا جھوٹا امیج بنا کر عوام کا برین واش کیا جا رہا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی نے بھارت کی جمہوریت کو چند مخصوص اور بااثر امیروں کے نظام میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ سرمایہ دار طبقہ مودی کو اقتدار میں بنائے رکھنے کے لیے اندھا دھند سیاسی فنڈنگ فراہم کرتا ہے اور بدلے میں مودی حکومت انہیں ملکی وسائل پلیٹ میں رکھ کر پیش کرتی ہے، جس سے عام ووٹر بدحال اور امیر ترین افراد مزید امیر ہو رہے ہیں۔
دی ٹیلی گراف نے مودی کے خطرناک عزائم کو بے نقاب کرتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ مودی اور امت شاہ کا اصل ایجنڈا بھارت کو ایک کٹر ہندو ریاست بنانا ہے جہاں مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا کر ان کے حقوق سلب کیے جا سکیں۔




