بین الاقوامی
Trending

کابل رجیم دہشت گردوں کی آماجگاہ: عالمی جریدے نے افغان طالبان اور شدت پسند تنظیموں کے خفیہ گٹھ جوڑ کا پردہ چاک کر دیا

 

کابل : عالمی امور اور سکیورٹی کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے معتبر امریکی جریدے "دی ڈپلومیٹ” نے اپنی حالیہ رپورٹ میں افغان طالبان کو خطے اور دنیا کے لیے "دہشت گردوں کا سرپرستِ اعلیٰ” قرار دے دیا ہے۔ رپورٹ میں ٹھوس شواہد کے ساتھ انکشاف کیا گیا ہے کہ کابل پر قابض طالبان رجیم نے عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونک کر خطرناک ترین علاقائی اور عالمی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ایک مضبوط اور منظم اتحاد قائم کر رکھا ہے۔
جریدے نے اپنی رپورٹ میں عالمی طاقتوں کی مصلحت پسندی اور سرد مہری کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایک چونکا دینے والا سوال اٹھایا ہے۔آخر عالمی برادری کو خطرے کی اس ہولناک شدت کو تسلیم کرنے کے لیے طالبان کی مزید کتنی دہشت گردی، حملوں اور پشت پناہی کی ضرورت ہے؟۔
رپورٹ کے مطابق، دوحہ معاہدے کے تحت دہشت گردوں کو اپنی سرزمیں استعمال نہ کرنے دینے کا طالبان کا وعدہ محض ایک سفارتی دھوکہ تھا، اور آج افغانستان القاعدہ اور تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) سمیت درجنوں شدت پسند گروہوں کی محفوظ ترین پناہ گاہ بن چکا ہے۔
"دی ڈپلومیٹ” لکھتا ہے کہ دنیا اور خطے کے چند ممالک نے مجبوری یا مصلحت کے تحت افغان طالبان کے ساتھ عبوری سکیورٹی یا اقتصادی روابط تو قائم کر رکھے ہیں، لیکن ان ممالک کے سکیورٹی اور دفاعی ادارے اس وقت شدید ترین تشویش اور اندرونی خوف کا شکار ہیں۔

پاکستان کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ: رپورٹ واضح کرتی ہے کہ افغان طالبان کی کھلی پشت پناہی اور وہاں موجود جدید ہتھیاروں تک رسائی کے باعث ہی ٹی ٹی پی (TTP) کو پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں تیز کرنے کا موقع ملا ہے۔ چین، روس اور وسطی ایشیائی ریاستیں (جیسے تاجکستان اور ازبکستان) بظاہر کابل کے ساتھ مذاکرات کی میز پر ہیں، لیکن ان کے انٹیلیجنس ادارے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ طالبان کے زیرِ سایہ پنپنے والی عسکریت پسندی کسی بھی وقت ان کی اپنی سرحدوں کو آگ لگا سکتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button