تحریر: مصطفےٰ صفدر بیگ
بلوچستان کی سنگلاخ وادیوں میں ریاست کو ایک نیا معرکہ درپیش ہے۔ دشمن اب بارود کے بوجھ تلے پہاڑوں میں نہیں چھپتا بلکہ یونیورسٹیوں کے گلزاروں میں بساند بن کر پھیلتا ہے، کلاس روم کے بلیک بورڈ پر چاک کی لکیروں میں سرایت کرتا ہے اور نصاب کی سطروں میں زہر گھول دیتا ہے۔ پروفیسر عثمان قاضی کی گرفتاری محض ایک فرد کی رسوائی نہیں بلکہ اس خفیہ اور خوفناک محاذ کا انکشاف ہے جہاں کتابوں کی روشنی بجھاکر بندوق کی دہائی دی جا رہی ہے۔ سرکاری طور پر بلوچ بچوں کو مطالعہ پاکستان پڑھانے پر مامور پروفیسر نجی زندگی میں درحقیقت بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ کو اسلحہ فراہم کرتا تھا۔ جسے کلاس روم میں یکجہتی کا درس دینا تھا، وہ ٹیلی گرام پر سرکاری افسران کی ٹارگٹ لسٹ ارسال کرتا تھا۔ جس کی ماں ریاست سے پنشن لیتی تھی اور بیوی سرکاری تنخواہ کھاتی تھی، وہ خود انہی ہاتھوں کے خون کا پیاسا تھا جنہوں نے اس کا گھر روشن کیا تھا۔ وزیرِاعلیٰ سرفراز بگٹی نے ٹھیک ہی تو کہا ہے کہ "یہ محروم نہیں بلکہ گمراہ تھے” اور یہی الفاظ دشمن کے مکروہ منصوبے کا نچوڑ ہیں۔
یہ جنگ بارود اور توپ کے بجائے تین زہریلے تیروں سے لڑی جا رہی ہے۔ دشمن کے ترکش کا پہلا تیر محرومی کا جھوٹا بیانیہ ہے۔ یہ وہ بیج ہے جسے سرزمین بلوچستان کی زرخیز مٹی میں بو کر دشمن نے نفرت کے کانٹے اُگا دیے۔ ہر گرفتار دہشت گرد اعتراف کرتا ہے کہ ریاست نے اسے عزت بھی دی اور مقام بھی عطا کیا مگر بیرونی آقاؤں کی پروپیگنڈا مشینری مسلسل یہ افواہ پھیلاتی رہی کہ بلوچستان کو "لوٹا” جا رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے الٹ ہے۔ کوئٹہ سے گوادر تک اسکولوں میں مفت تعلیم، ہسپتالوں میں جدید علاج اور شمسی توانائی کے منصوبے ریاست کی توجہ کے جیتے جاگتے ثبوت ہیں۔ مگر دشمن نے عثمان قاضی جیسے لوگوں کو "مظلوم قوم کے مجاہد” کا لبادہ اوڑھا دیا اور انہیں باور کرایا کہ معصوم جانیں لینا "شہادت” ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی خودکش بمبار کمزور خواتین کو بلیک میل کرتے ہیں اور معصوم نوجوانوں کو بہکا کر جنت کی آڑ میں دوزخ کے سوداگر بنتے ہیں۔
دشمن کے ترکش کا دوسرا تیر سوشل میڈیا کا زہر ہے۔ کبھی جنگ کا شور توپ کے دہانے سے اُٹھتا تھا مگر اب یہ شور ٹوئیٹر، ٹیلی گرام اور ڈارک ویب کے اندھیروں سے آتا ہے۔ کوئٹہ ریلوے حملے کی منصوبہ بندی سے لے کر افسران کی فہرستیں تیار کرنے تک سب کچھ انہی خفیہ پلیٹ فارمز پر ہوتا ہے۔ نوجوانوں کے ذہنوں کو مسموم کرنے کے لیے یہ جدید ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں کے کلاس روموں کے چراغ بجھانے کی سازشیں وہیں پروان چڑھتی ہیں جہاں ہمیں روشنی بانٹنی تھی۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ خطرہ صرف پاکستان کا ہے؟ ہرگز نہیں۔ دنیا بھر کے معاشرے اسی فتنے سے دوچار ہیں۔ مگر فرق یہ ہے کہ دنیا نے اس جنگ کا جواب ڈھونڈ نکالا ہے۔ ملائیشیا نے "ہارمونی سینٹرز” قائم کیے جہاں علماء، ماہرینِ نفسیات اور سماجی کارکن گمراہ نوجوانوں کے گھروں تک جا کر ان کے ذہنوں کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں۔ سنگاپور میں "ڈی ریڈیکلائزیشن کلینک” ہیں جو دہشت گردی میں گرفتار نوجوانوں کی اصلاح کرتے ہیں اور انہیں معاشرے کا مفید شہری بناتے ہیں۔ انڈونیشیا میں ’’ڈیجیٹل پیس بریگیڈ‘‘ ہے جو شدت پسند مواد کا تعاقب کرتی ہے اور حقیقت پر مبنی متبادل بیانیہ وائرل کرتی ہے۔ یہ ماڈل ہمارے لیے بھی چراغِ راہ ہوسکتے ہیں بشرطیکہ ہم انہیں اختیار کرنے کا حوصلہ کریں۔
لیکن اس سے پہلے ہمیں تعلیمی محاذ صاف کرنا ہوگا۔ یونیورسٹیوں کے کمروں میں فکر کے چراغ روشن کرنے ہوں گے۔ ہر جامعہ میں ’’آئیڈیالوجیکل سیفٹی سیل‘‘ قائم ہو، اساتذہ کے کردار اور نصاب کا آڈٹ ہو اور تقرریوں میں صرف تعلیمی قابلیت نہیں بلکہ قومی سوچ کا امتحان بھی لازمی ہو۔ پاکستان کو اس نفسیاتی جنگ میں تیز تر وار کرنا ہوگا۔ ہر ضلع میں "ڈی ریڈیکلائزیشن کلینک” کھولے جائیں جہاں ماہرین گمراہ نوجوانوں کے گھرانے تک رسائی حاصل کریں، ان کے شکوے دور کریں، ان کے دکھ سنیں اور انہیں سچ کا آئینہ دکھائیں۔ سابق دہشت گردوں کے انٹرویوز نشر کیے جائیں جو خود اقرار کریں کہ "ہمیں بیرونی طاقتوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا”۔
چونکہ دشمن کی یہ یلغار ففتھ جنریشن وار کے نام سے جانی جاتی ہے اس لیے ہمیں بھی اپنی صفیں نئی بنیادوں پر استوار کرنی ہوں گی۔ ڈیجیٹل محاذ کو مضبوط بنائیں، "سائبر پیس کور” کے نام سے بلوچ نوجوانوں کی ایک ٹیم تیار کریں جو تحقیق اور دلیل کے ساتھ بی ایل اے کے جعلی پروپیگنڈے کا توڑ کرے اور علمی و جذباتی انداز میں سچائی کا علم بلند کرے۔ یاد رکھیں کہ یہ جنگ گولی سے زیادہ فہم و فراست سے جیتی جا سکتی ہے۔ اگر استاد کتابیں چھوڑ کر بم اٹھا لے تو یہ صرف ایک فرد کی گمراہی نہیں بلکہ یہ ہماری فکری سرحدوں پر پڑنے والی وہ دراڑ ہے جسے پاٹنا ہی اصل جہاد ہے اور اسی سے بلوچستان کی فضاؤں میں امن کی فاختہ پھر سے اُڑنے لگے گی۔
اس کے ساتھ ہی لازم ہے کہ فضا میں بکھرے جھوٹے نعروں اور مسموم پروپیگنڈے کے مقابلے میں سچائی کی قندیلیں روشن کی جائیں۔ سوشل میڈیا کے ہر گوشے، خصوصاً ٹک ٹاک اور ٹیلی گرام جیسے تیز رفتار ذرائع پر "حقیقی بلوچستان” کے عنوان سے ایسے چراغ روشن کیے جائیں ، جو ترقی کے قافلے کی روشنی عام کریں، جن میں ترقی کے زینے طے کرتی چمکتی ہوئی گلیاں، خوشحال دیہاتوں کی مسکراہٹیں اور کامیاب بلوچ فرزندوں کی کہانیاں عکس در عکس جھلکتی ہوئی نظر آئیں۔ یہ بیانیہ دشمن کے سیاہ پروپیگنڈے کو اس طرح نگل لے گا جیسے سورج کی کرنیں رات کی سیاہی کو کھا جاتی ہیں۔
بلوچستان کے معاشی افق پر بھی اسی طرح اجالا بکھیرنا ہوگا۔ ریاست اگر سرکاری نوکریوں کے دروازے بلوچ نوجوانوں پر کشادہ کر دے، خصوصاً ان سنگلاخ وادیوں میں جہاں دہشت گردی کے سائے گہرے ہیں تو وہ ہاتھ جو بارود تھامنے پر مجبور ہیں، وہ ہنر اور محنت کی خوشبو سے معطر ہو جائیں گے۔ گوادر فری زون کو اگر ایک لاکھ نوجوانوں کے لیے تربیت گاہ بنا دیا جائے تو یہ روزگار کی سبیل بن کر اُنہیں اسلحے کے بجائے عزت اور روزی کا تحفہ دے گی۔ نوجوان کے ہاتھ میں جب قلم اور اوزار ہوں گے تو وہ کلاشنکوف کو حقیر جان کر ٹھکرا دے گا۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا یہ دوٹوک اعلان کہ "مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں مگر جو جنگ کرے گا اُسے آہنی ہاتھ سے کچل دیا جائے گا” بلاشبہ درست سمت کا تعین کرتا ہے۔ لیکن یہ اصول صرف اُن ہاتھوں تک محدود نہ رہے جو بندوق تھامے ہوئے ہیں بلکہ اُن ذہنوں تک بھی پہنچنا چاہیے جو زہر اُگلتے ہیں۔ وہ لوگ جو درسگاہوں میں معصوم اذہان پر مسموم نظریات کا چھڑکاؤ کرتے ہیں، وہ دراصل بارود کے انبار سے زیادہ ہولناک ہیں۔ ایک پروفیسر جو کتاب کی بجائے بم کی تعلیم دے، وہ پچاس خودکش بمباروں سے بھی زیادہ مہلک ہے کیونکہ وہ جسموں کے نہیں روحوں کے قاتل ہیں۔
بلوچستان پاکستان کے دل کی دھڑکن ہے لیکن بی ایل اے کا جھوٹا پروپیگنڈا اسے مادر وطن سے کاٹنے کی سازش کررہا ہے۔ حالانکہ بلوچستان کی تاریخ پاکستان کے رنگ میں ڈھلی ہوئی ہے۔ قائداعظم کے ساتھ بلوچ رہنماؤں کی تصویریں، 1965ء کی جنگ میں بلوچ رجمنٹ کا جوش و ولولہ اور بلوچی زبان میں پاکستان کی مدح سرائیاں ۔۔۔۔ یہ سب ہماری مشترکہ پہچان کے روشن مینار ہیں۔ انہیں نصاب میں جگہ دی جائے، ٹی وی ڈراموں میں دکھایا جائے اور سوشل میڈیا کی فضا میں اس طرح بکھیر دیا جائے کہ ہر بلوچ نوجوان فخر سے کہے کہ "یہی میرا پاکستان ہے”۔
پروفیسر عثمان قاضی کی داستان دراصل ایک سنگین انتباہ ہے۔ یہ اُس دستک کی صدا ہے جو ہمارے دروازے پر سنائی دے رہی ہے۔ اگر ہم نے اپنے کیمپس کی فضا کو صاف نہ کیا، سوشل میڈیا کو مسموم بیانیوں سے پاک نہ کیا اور نوجوانوں کے ذہنوں کی حفاظت نہ کی تو دشمن ہمارے گھروں کے آنگن تک آ پہنچے گا۔ بلوچستان کا مستقبل اس بات کا منتظر ہے کہ ہم اپنے پروفیسروں کے ہاتھوں میں کتاب رکھتے ہیں یا بارود؟ قوم کو اب حتمی فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ جنگ لفظوں سے جیتی جائے یا گولیوں سے۔
نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے




