نیویارک: کینیڈا, برطانیہ اور آسٹریلیا کے بعد پرتگال کی جانب سے بھی فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ پرتگال کے وزیر خارجہ پاولو رینجل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ پرتگال کی خارجہ پالیسی کی بنیادی اور مستقل سوچ کا حصہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار اور مستقل امن کے لیے دو ریاستی حل ہی واحد راستہ ہے۔ پاولو رینجل نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا غزہ میں جاری انسانی بحران کا فوری حل نہیں، لیکن عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
اس سے قبل برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا بھی فلسطین کو ایک خودمختار ریاست تسلیم کر چکے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں امن کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ ان کا ملک فلسطین کو ریاست تسلیم کرتا ہے اور فلسطینی عوام کے ساتھ پرامن مستقبل کی تعمیر کے لیے تیار ہے۔ آسٹریلوی حکومت نے بھی دو ریاستی حل کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کی یقین دہانیوں پر عملدرآمد کے بعد سفارتی تعلقات قائم کرنے پر غور کا عندیہ دیا ہے۔
یہ اعلانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ میں انسانی بحران شدید تر ہو چکا ہے اور ہزاروں بے گناہ شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بڑی مغربی طاقتوں کی جانب سے فلسطین کی حمایت ایک نئے بین الاقوامی دباؤ کی صورت اختیار کر رہی ہے جو اسرائیل اور اس کے اتحادیوں پر دو ریاستی حل کی طرف سنجیدگی سے بڑھنے کا تقاضا کر سکتی ہے۔




