سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ قطر پر کسی بھی قسم کا حملہ، امریکا کی قومی سلامتی اور مفادات کے لیے خطرہ سمجھا جائے گا۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ ایسی صورت میں امریکا سفارتی، معاشی اور ضروری ہوا تو فوجی کارروائی سمیت تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے گا۔
یہ غیرمعمولی قدم اسرائیل کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مبینہ طور پر حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے فضائی حملوں کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔ ان حملوں نے نہ صرف قطر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش پیدا کی تھی۔ واشنگٹن اور دوحہ نے ان کارروائیوں پر سخت ردِعمل دیا تھا۔
ٹرمپ کے جاری کردہ اس ایگزیکٹو آرڈر کا مقصد قطر کو اس امر کا یقین دلانا ہے کہ امریکا اس کی خودمختاری اور سلامتی کا بھرپور دفاع کرے گا۔ اس اقدام کو خطے میں امریکی کردار اور قطری شراکت داری کو مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے ان حملوں کو حماس کے خلاف دفاعی کارروائی قرار دیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے قطری وزیرِاعظم کو فون کرکے ان حملوں پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
ٹرمپ انتظامیہ کی یہ پالیسی نہ صرف قطر بلکہ خلیجی خطے میں امریکی سٹریٹیجک مفادات کی حفاظت کی عکاس ہے، اور آئندہ کسی بھی ممکنہ تنازع میں امریکا کی پوزیشن کو واضح کرتی ہے۔




