لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے عائلی تنازعات کے حوالے سے ایک انتہائی اہم قانونی اصول وضع کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شوہر پر صرف نکاح نامے کی شرائط ہی لازم نہیں، بلکہ وہ میاں بیوی کے درمیان ہونے والے کسی بھی دوسرے متوازی معاہدے کی پاسداری کرنے کا بھی برابر پابند ہے۔
تفصیلات کے مطابق، جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے فیملی لا کے دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے 11 صفحات پر مشتمل ایک جامع تحریری فیصلہ جاری کیا ہے۔ اس کیس میں شوہر نے ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں اسے حق مہر کے علاوہ ایک الگ تحریر کی بنیاد پر اپنی بیوی کو 5 مرلے کا رہائشی مکان منتقل کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔
عدالتِ عالیہ نے شوہر کا مؤقف اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ماتحت عدالت کے فیصلے پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ معزز جج نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اگر شادی کے بندھن میں بندھتے وقت یا اس کے بعد فریقین کے درمیان جائیداد یا اثاثوں کی منتقلی کا کوئی بھی آزادانہ معاہدہ طے پا جائے، تو قانون شوہر کو اس سے مکرنے کی اجازت نہیں دیتا اور وہ چیز بیوی کا قانونی حق بن جاتی ہے۔




