اسلام آباد : بھارت کا مودی نواز گودی میڈیا ایک بار پھر صحافتی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کے خلاف زہریلے اور متنازع بیانیے کا پرچار کر رہا ہے۔ مودی حکومت کے زیرِ اثر میڈیا مسلسل بے بنیاد اور سنسنی خیز مہم کے ذریعے خطے میں اشتعال انگیزی کو ہوا دینے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے۔
حالیہ مہم کے دوران بھارتی میڈیا نے نام نہاد کالعدم تنظیموں کی آڑ لے کر پاکستان کے سفارتی و دفاعی معاہدوں کو اسرائیل سے جوڑنے کا ایک من گھڑت پروپیگنڈا شروع کیا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالنا اور اس کی ساکھ کو متاثر کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، مقبوضہ کشمیر کے علاقے راجوڑی میں بھارتی فوجیوں کی موت اور جالندھر ملٹری کیمپ کے باہر دھماکے جیسے واقعات پر پردہ ڈالنے کے لیے، بھارتی صحافیوں نے بغیر کسی تفتیش اور ثبوت کے ان کا ملبہ پاکستان پر دھرنے کی روایتی ہٹ دھرمی دکھائی ہے۔
پروپیگنڈے کو مضحکہ خیز حد تک بڑھاتے ہوئے گودی میڈیا نے یہ لایعنی الزام بھی عائد کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ اور میچ فکسنگ کا پیسہ کینیڈا میں بھارت مخالف سرگرمیوں پر خرچ کر رہا ہے۔
دفاعی اور سیاسی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بھارت اس وقت شدید توانائی بحران اور سنگین داخلی مسائل کا شکار ہے، اور ان عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے فالس فلیگ آپریشنز کا ڈرامہ رچانا بی جے پی حکومت کا پرانا وطیرہ رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کا یہ انتہا پسندانہ طرزِ رپورٹنگ صحافت نہیں بلکہ خالصتاً ہندوتوا کے سیاسی ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے۔




