کوالالمپور: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان برادرانہ تعلقات نئی جہتوں کی طرف بڑھ رہے ہیں اور دونوں ممالک مشترکہ منصوبوں کے ذریعے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کے خواہاں ہیں۔
یہ بات انہوں نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کے ہمراہ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملائیشیا کا یہ ان کا پہلا سرکاری دورہ ہے اور اس دوران انہیں والہانہ استقبال ملا، جس پر وہ ملائیشین قیادت کے شکر گزار ہیں۔
شہباز شریف نے انور ابراہیم کو "ایک وژنری اور نمایاں قائد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملائیشیا کو ترقی یافتہ ملک بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ان کے تجربات سے سیکھنے اور باہمی ترقی کے لیے مشترکہ منصوبے شروع کرنے کا خواہاں ہے۔
وزیراعظم نے ملائیشیا کو "پاکستان کا دوسرا گھر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، تعلیم اور ثقافت سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان سے 20 کروڑ ڈالر مالیت کا حلال گوشت ملائیشیا کو برآمد کرنے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ حلال گوشت کی تجارت کو مزید فروغ دیا جائے گا، جس سے دونوں ممالک کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔
دونوں رہنماؤں نے خطے کی سلامتی، فلسطین اور غزہ کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے اور عالمی سطح پر دونوں ممالک مل کر آواز بلند کریں گے۔
اس موقع پر ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کی کتاب "سکرپٹ” کے اردو ترجمے کی تقریب رونمائی بھی ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی۔ انہوں نے کتاب کو اسلام آباد اور کوالالمپور کے درمیان فکری پُل قرار دیا اور کہا کہ یہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان فہم و آگاہی بڑھانے میں مدد دے گی۔ شہباز شریف نے انور ابراہیم کی درخواست پر مفکرِ پاکستان علامہ اقبالؒ کے اشعار بھی پڑھے، جو اس موقع کو مزید یادگار بنا گئے۔
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ 1957 سے قائم برادرانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون جاری ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رہیں گی۔
انور ابراہیم نے دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا اعادہ کیا جبکہ پاک بھارت امن کو خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔




