نیویارک/نئی دہلی : امریکہ کے بدنامِ زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کے جنسی جرائم اور ان سے وابستہ بااثر شخصیات کی نئی فہرست (ایپسٹین فائلز) نے بھارت میں ایک نیا سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر معتبر ناموں کے ساتھ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام سامنے آنے پر ملک بھر میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے۔
بھارت کی سیاسی فضا اس وقت مودی مخالف نعروں سے گونج رہی ہے۔ اپوزیشن نے اس معاملے کو محض ایک الزام نہیں بلکہ "قومی سلامتی اور اخلاقیات کا مسئلہ” قرار دیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے انکشاف کیا کہ ایپسٹین کی دستاویزات میں موجود تفصیلات انتہائی چونکا دینے والی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بھارتی ایجنسیوں کو ان روابط کا علم تھا؟۔
پریانکا گاندھی نے ٹویٹ کیا کہ بی جے پی جو دوسروں کے کردار پر انگلیاں اٹھاتی ہے، اب اسے اپنے ‘عالمی لیڈر’ کے ان مشکوک رابطوں پر جواب دینا ہوگا۔ عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ "بھارت کا سر شرم سے جھک گیا ہے، مودی جی کو فوری استعفیٰ دینا چاہیے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق، ایپسٹین فائلز میں نام آنا وزیراعظم مودی کے اس امیج کو نقصان پہنچا سکتا ہے جو انہوں نے ایک ‘سخت گیر اور ایماندار’ لیڈر کے طور پر عالمی سطح پر بنایا ہے۔
عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور میڈیا اب اس لسٹ میں موجود ناموں کی چھان بین کر رہا ہے۔سیاسی عدم استحکام کے خدشے کے پیشِ نظر مارکیٹ میں بھی مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔




