واشنگٹن / تہران:امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی اور سفارتی معاہدے کو ایک ساتھ سامنے رکھ دیا۔ امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں اہم گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو ایک بڑا دھچکا دینا ہوگا اور امریکی افواج دو سے تین روز میں ایران پر ہولناک حملہ کرنے کی صلاحیت اور تیاری رکھتی ہیں، تاہم مذاکرات میں اہم پیش رفت کے باعث تہران کو اگلے ہفتے کے آغاز تک کا وقت دے دیا گیا ہے۔
امریکی صدر نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ وہ ایران پر بڑے حملے کی حتمی منظوری دینے کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے اور کارروائی میں محض ایک گھنٹہ باقی تھا، لیکن مذاکرات کاروں کی درخواست پر اسے عارضی طور پر روک دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت ایک بڑی ڈیل کے لیے کوشاں ہے اور بات چیت آگے بڑھی ہے۔
صدر نے ٹائم لائن واضح کرتے ہوئے کہا معاہدے کے لیے ایران کے پاس جمعہ، ہفتہ، اتوار یا اگلے ہفتے کے آغاز تک کا وقت ہے۔ اگر اس ڈیڈ لائن کے دوران امریکی شرائط کے مطابق ڈیل فائنل نہ ہوئی، تو پھر سفارت کاری کا باب بند کر کے فوجی آپشن استعمال کیا جائے گا۔
امریکی الٹی میٹم کے بعد تہران نے بھی اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔ ایرانی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ حملے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں اور خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب آئندہ 72 گھنٹوں پر لگی ہیں جو اس خطے کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔




