اسلام آباد: خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے الگ الگ پیغامات جاری کیے، جن میں خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے عزم کا اعادہ اور اس مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
صدر آصف علی زرداری کا پیغام
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ "آج ہم دنیا بھر کی کروڑوں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں جو ابھی بھی مختلف نوعیت کے تشدد کا سامنا کر رہی ہیں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عورت پر تشدد نہ صرف انفرادی طور پر غلط ہے بلکہ یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور انسانی وقار کے خلاف ایک اقدام ہے، جو معاشرتی ترقی میں بڑی رکاوٹ بھی ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ "خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، ہنر، اور معاشی خود مختاری فراہم کرنا تشدد کو ختم کرنے کی کلید ہے۔” اس سال کے عالمی دن کا تھیم "خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے اتحاد” اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ ہم خواتین کے مسائل کے حل کے لیے پیشگی حکمت عملی اپنائیں اور متاثرہ خواتین کی معاونت کریں۔
انہوں نے تمام سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے اپنے مشترکہ اقدامات کو تیز کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ قوانین نہ صرف منظور ہوں بلکہ ان پر مؤثر طور پر عمل بھی کیا جائے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا پیغام
شہباز شریف نے اپنے پیغام میں خواتین پر تشدد اور ہراسانی کے مکمل انسداد کے لیے کثیر الجہتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے مختلف اہم اقدامات کر رہی ہے، جن میں پیکیجز اور قانون سازی شامل ہیں۔
شہباز شریف نے کہا، "آج کا دن ہمیں اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اس عہد کی تجدید کریں اور متحد ہو کر خواتین پر تشدد اور ہراسانی کے خلاف جدوجہد کریں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "خواتین کے خلاف تشدد نہ صرف انسانیت اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، بلکہ یہ معاشرے کی ترقی اور سکون کے لیے بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔”
وزیرِ اعظم نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے پاکستان کی پالیسی، قانون سازی اور انتظامی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان خواتین کے قانونی تحفظ اور انصاف تک رسائی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "آئین پاکستان خواتین کی عزت اور تکریم کی ضمانت دیتا ہے، اور حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے کہ خواتین کو امتیازی سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔




