پاکستان
Trending

غفلت کا پرانا نوشتہ اور فلڈ مینجمنٹ

 

تحریر: مصطفے صفدر بیگ

آسمان سے برسنے والی بارش کی بوندیں زمین پر اترتی ہیں تو کہیں زندگی کا گہوارہ بن جاتی ہیں، کہیں مٹی کے رگ و پے میں نمو کی سرگم بکھیر دیتی ہیں، کہیں پیاسے کھیت لہلہا اٹھتے ہیں تو کہیں باغ خوشبوؤں سے مہک جاتے ہیں۔ لیکن جب یہی فیضان باراں ایک بے قابو سیلاب کی صورت اختیار کرلے، تو یہ زندگی کے دامن سے رنگ نوچ لیتا ہے اور امید کے چراغ بجھا دیتا ہے۔ پہلے جو پانی ابر رحمت ہوتا ہے، وہ سیلاب کی صورت غضب ناک ہو کر ایسی آفت ڈھاتا ہے کہ بستیوں کی سانس رک جاتی ہے، کھیت اجڑ جاتے ہیں اور انسان اپنی بے بسی کا نوحہ پڑھنے لگتا ہے۔
یہ آفت کوئی اجنبی مہمان نہیں ہوتی۔ دنیا کے ہر خطے اور ہر براعظم نے دریاؤں کے اس طیش کو کبھی نہ کبھی ضرور جھیلا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ دنیا میں سیلاب کیوں آتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ ایک ہی نوعیت کی قدرتی آفت کسی قوم کے لیے محض ایک عارضی زخم کیوں رہتی ہے اور کسی دوسری قوم کے لیے ناسور کیوں بن جاتی ہے؟
جواب آفت کی شدت میں پنہاں نہیں ہے بلکہ اصل جواب سیلابوں کے سدباب اور انتظام یعنی انہیں مینیج کرنے میں پوشیدہ ہے، جواب اس تدبیر میں چھپا ہے جو آنے والے خطرے کو پہلے ہی بھانپ لے، جواب اس تیاری میں موجود ہوتا ہے جو نقصان کو کم سے کم کر دے اور جواب اس شعور میں شامل ہوتا ہے جو سانحے کے بعد تیز رفتاری سے زخموں کو بھردے۔
آئیں دیکھتے ہیں کہ دنیا کے وہ خطے جہاں انسان نے پانی کے ساتھ جنگ نہیں لڑی بلکہ اس سے امن کا معاہدہ کیا۔
مثلا ہالینڈ کو لے لیں، سمندر کی سطح سے نیچے آباد ہونے کی وجہ سے ہالینڈ ہمیشہ سے پانی کے غیظ و غضب کے سائے میں رہا ہے لیکن اس خوف نے اسے کمزور نہیں کیا بلکہ جری اور دانش مند بنا دیا ہے۔
ہالینڈ نے اربوں یورو خرچ کرکے ڈیلٹا ورکس جیسے منصوبے بنا رکھے ہیں۔ یہ ڈیلٹا ورکس محض بند نہیں ہیں بلکہ انجینئرنگ کا وہ شاہکار ہیں جو پانی کی روانی کو قابو میں رکھتے ہیں۔
یہ نظام اور انتظام پانی کو قید کرنے کے بجائے اس کے راستے متعین کرتا ہے، گویا سیلابوں کو مزید غضب ناک کرنے کے بجائے ان کے ساتھ نرمی سے مکالمہ کرتا ہے۔ وہاں کی حکومتیں عوامی وسائل کو دیانت داری سے استعمال کرتی ہیں اور عوام کو یقین ہوتا ہے کہ ان کا ٹیکس انہی کی فلاح اور حفاظت کے لیے خرچ ہو رہا ہے۔
پھر جاپان کو دیکھ لیجیے۔ جاپان زلزلوں، سونامی اور طوفانوں کے مستقل خطرات میں گھرا رہتا ہے، مگر جاپانیوں نے سیلاب سے نمٹنے کو اپنی اجتماعی تربیت کا حصہ بنا لیا ہے ننھے بچوں سے لے کر بڑے بوڑھوں تک، ہر شخص جانتا ہے کہ آفت کی پہلی دستک پر کیا کرنا ہے؟ وہاں انفراسٹرکچر اس طرح تعمیر کیا گیا ہے کہ قدرتی آفات بھی اس کے پائے استقلال کو متزلزل نہیں کرتیں۔ ٹوکیو جیسے شہر کے نیچے پانی کے بہاؤ کے لیے زیر زمین نہریں اور سرنگیں تعمیر ہیں انجینئرنگ کے شاہکار یہ منصوبے جاپانیوں کی قوت عمل اور دور اندیشی کے آئینہ دار ہیں، ان منصوبوں پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر کو محفوظ مستقبل کی ضمانت سمجھا گیا۔
اور اب ذرا اپنی طرف نظر ڈالیں۔ پاکستان دریاؤں کی سرزمین ہے جہاں پانی روزی کا سامان بھی ہے اور موت کا پیام بھی ہے۔ ہمارے دریا ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، لیکن انہی دریاوں کی طغیانی ہر سال ہمارے گاؤں اجاڑ دیتی ہے، شہروں کو ڈبو دیتی ہے اور انسان کو اس کی بے چارگی کا آئینہ دکھاتی ہے۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی کوئی ایسا منصوبہ بنایا جو مستقل ہو اور جو آنے والے برسوں کے لیے سیلاب کے خطرے کو کم کر سکے؟
المیہ یہ ہے کہ ہم تدبیر نہیں کرتے، بس ردعمل دیتے ہیں۔ سیلاب آتا ہے، جانیں جاتی ہیں، گھر اجڑتے ہیں، کھیت بہہ جاتے ہیں اور اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔
پھر عالمی اداروں سے امداد آتی ہے، ریلیف کیمپ لگتے ہیں، اخبارات میں تصویریں چھپتی ہیں اور جیسے ہی پانی اُترتا ہے، ہم سب کچھ بھول کر اگلی آفت کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔
یہ ایک اذیت ناک دائرہ ہے، جس میں ہم برسوں سے گھوم رہے ہیں ۔۔۔۔ نہ ہم سبق لیتے ہیں، نہ راستہ بدلتے ہیں اور نہ اپنی کوتاہیوں کو درست کرتے ہیں۔
فرق صرف منصوبہ بندی کا نہیں، بلکہ تہذیب اور نفاست کا بھی ہے۔ یورپ کے دریاؤں کے کنارے قائم بند ایسے مضبوط اور پائیدار ہیں جیسے کسی معمار نے محبت سے تاج محل تراشے ہوں۔ ان کی باقاعدہ دیکھ بھال کی جاتی ہے اور ہر درز اور ہر دراڑ پر نگاہ رکھی جاتی ہے۔
ہمارے ہاں بند تو بنتے ہیں مگر ایسے جیسے کچے گھڑے میں پانی بھر دیا جائے۔ معیار پر سمجھوتے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ذرا سا دباؤ آتے ہی، یہ ڈیم ریت کی دیوار کی طرح بہہ جاتے ہیں اور پانی اپنی بپھری ہوئی قوت کے ساتھ بستیاں ڈبو دیتا ہے۔
دوسرا بڑا فرق جنگلات کے تحفظ کا ہے۔ درخت دراصل سیلاب کے سامنے قدرت کے قائم کردہ مورچے ہیں جو پانی کی رفتار توڑتے اور زمین کو تھامے رکھتے ہیں۔
چین اور کئی دیگر ملکوں میں دریاؤں کے کنارے سبز پشتے اور بند بنائے جاتے ہیں۔ وہاں درختوں کی کاشت اور حفاظت کو قومی فریضہ سمجھا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں الٹی روش ہے۔
یہاں پہاڑوں کی چوٹیوں سے لے کر میدانی دشت تک، درختوں کا قتل عام جاری رہتا ہے۔ وہ سرسبز قلعے جو سیلاب کے خلاف قدرتی حصار تھے ، ہماری بے رحمی نے انہیں مسمار کردیا ہے۔
اب ہم اس جرم کی قیمت بنجر ہوتی زمینوں اور ڈوبتے گاؤں کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔
تیسرا اور سب سے بنیادی فرق ، حکمرانی اور انتظام کا ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے ایک ایسا خودمختار اور بااختیار ادارہ موجود ہوتا ہے جو دولت، وسائل اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہوتا ہے۔ وہاں محکمہ موسمیات جدید آلات کے ذریعے ہفتوں پہلے خطرے کی گھنٹی بجا دیتا ہے اور یہ آواز حکومت اور عوام دونوں کے کانوں میں گونجتی ہے۔ ادارے حرکت میں آتے ہیں، رکاوٹیں ہٹائی جاتی ہیں اور انسان محفوظ جگہوں پر پہنچ جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں پیشین گوئیاں بھی ہوتی ہیں مگر انہیں وہ سنجیدگی نہیں دی جاتی، جس کی وہ مستحق ہوتی ہیں۔ ادارے زنگ آلود ہیں ، وسائل محدود ہیں، آلات فرسودہ ہیں اور سب سے بڑھ کر ایک دوسرے سے کٹے ہوئے، بے ربط اور بے سمت ہیں۔
چوتھا فرق عوامی شعور اور تعلیم کا ہے۔ جاپان میں ایک ننھا بچہ بھی جانتا ہے کہ زلزلہ یا سیلاب آئے تو کون سا کونا محفوظ ہے اور کس سمت جانا ہے۔
ہمارے ہاں ناخواندگی اور آگاہی کے فقدان نے لوگوں کو بے بس کر رکھا ہے۔ آفت کے لمحوں میں خوف ان سے وہ غلطیاں کرواتا ہے، جو نقصان کو کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔
ہم نے کبھی اپنے نصاب میں یہ سبق نہیں ڈالا کہ قدرتی آفات سے بچاؤ بھی تعلیم کا حصہ ہے اور یہ علم کا نہیں بلکہ زندگی کا سبق ہے۔
پاکستان کے وسائل محدود ضرور ہیں مگر یہ کمی ہمارے ہاتھ نہیں باندھتی بلکہ یہ ہم سے صرف ترجیحات بدلنے کا تقاضا کرتی ہے۔
ہمیں دریاؤں کے نظم و نسق کے لیے ایک طویل المدتی، جامع اور شفاف حکمت عملی وضع کرنی ہوگی۔ ایک ایسی حکمت عملی، جس میں جدید ہائیڈرولوجیکل تحقیق، مضبوط انفراسٹرکچر ، جنگلات کا تحفظ اور عوامی آگاہی سب شامل ہوں۔ ہمیں محکمہ موسمیات کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا، سیلاب کے پیشگی انتظام کے لیے ایک خودمختار اور بااختیار اتھارٹی قائم کرنا ہوگی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عوامی تعمیرات کو بدعنوانی کی لعنت سے پاک کرنا ہوگا۔
قارئین کرام! سیلاب ایک قدرتی حقیقت ہے جسے روکا نہیں جا سکتا مگر اس کے پنجے ڈھیلے ضرور کیے جا سکتے ہیں اور اس کی تباہی کا زہر کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم حادثے کے بعد رو دھو کر چند دنوں میں سب کچھ بھول جانے کے بجائے، پہلے سے تیاری کریں اور سیلابوں کی روک تھام پر سرمایہ لگائیں۔
دنیا ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ آفت آنے سے پہلے خرچ کیا گیا ایک روپیہ، آفت گزرنے کے بعد کے سو روپے بچا لیتا ہے۔
وقت آن پہنچا ہے کہ ہم یہ سبق محض سنیں نہیں بلکہ سیکھ بھی لیں ۔۔۔۔ ورنہ ہر نیا سیلاب ہماری غفلت کا وہی پرانا نوشتہ دہراتا رہے گا۔

 

نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button