بلاگز
Trending

اسلام آباد مذاکرات: عالمی سفارت کاری میں پاکستان کا نیا رخ

تحریر: حافظ احسن احمد کھوکھر (ایڈووکیٹ سپریم کورٹ و ماہر بین الاقوامی قانون)

اکیسویں صدی کا تیسرا عشرہ عالمی نظام میں بڑی تبدیلیوں کا گواہ ہے۔ جہاں دنیا مختلف بلاکس اور تزویراتی رقابتوں میں بٹی ہوئی نظر آتی ہے، وہیں پاکستان نے 2025 سے اپنی خارجہ پالیسی میں ایک ایسی جدت اور پختگی پیدا کی ہے جس نے اسے عالمی سطح پر ایک "تعمیری ثالث” کے طور پر متعارف کروایا ہے۔ اسلام آباد آج صرف ایک دارالحکومت نہیں رہا، بلکہ یہ واشنگٹن، تہران، بیجنگ اور ماسکو کے درمیان سفارتی رابطوں کا ایک معتبر مرکز بن چکا ہے۔
حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہیں۔ 1979 کے انقلابِ ایران کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک باضابطہ اور ڈھانچہ جاتی رابطہ قائم ہوا۔ پاکستان کی سہولت کاری سے ہونے والے ان 21 گھنٹہ طویل مذاکرات نے ثابت کیا کہ پاکستان اب محض تماشائی نہیں بلکہ عالمی امن کا ایک فعال کھلاڑی ہے۔
پاکستان نے ان دو طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کیا جن کے درمیان دہائیوں سے براہِ راست رابطے منقطع تھے۔ ان کوششوں کی بدولت خطے میں ایک نازک لیکن ناگزیر جنگ بندی کو برقرار رکھنے میں مدد ملی۔پاکستان کی شہری اور عسکری قیادت نے اس پورے عمل میں اپنی غیر جانبداری اور تزویراتی پختگی کو ثابت کیا۔
کسی بھی تنازعے میں ثالثی کا عمل فریقین کے موقف کو سمجھے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ امریکہ کے تحفظات جہاں جوہری پروگرام، افزودگی اور آبی راستوں کی سکیورٹی پر مبنی ہیں، وہیں ایران کا موقف بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی خودمختاری اور پرامن جوہری توانائی کے حق پر استوار ہے۔
پاکستان نے ان متضاد بیانیوں کے درمیان "مکالمے کے تسلسل” کو اہمیت دی۔ 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کی مثال سامنے رکھتے ہوئے، اسلام آباد نے یہ باور کروایا کہ پائیدار امن صرف طاقت یا جبر سے نہیں بلکہ ایک ایسے فریم ورک سے ممکن ہے جہاں اقتصادی نارملائزیشن اور سکیورٹی تحفظات ساتھ ساتھ چلیں۔
پاکستان کی موجودہ کامیابی کی ایک بڑی وجہ اس کی "ہمہ جہت سفارت کاری” ہے۔ پاکستان نے بیجنگ اور ماسکو کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ریاض، لندن، پیرس اور برسلز کے ساتھ بھی اپنے روابط کو متوازن رکھا ہے۔ یہ توازن اسے یہ صلاحیت بخشتا ہے کہ وہ مختلف بلاکس کے درمیان ایک قابلِ بھروسہ مذاکرات کار کے طور پر ابھر سکے۔ پاکستان اب عالمی امور میں محض ایک شریک ملک نہیں بلکہ عالمی استحکام اور سفارتی ہم آہنگی کا ایک ابھرتا ہوا معمار بن چکا ہے۔ یہ نیا کردار نہ صرف پاکستان کے اپنے قومی مفاد میں ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک مثبت نوید ہے۔ یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ آج کی منقسم دنیا میں طاقت کا استعمال صرف عدم اعتماد پیدا کرتا ہے، جبکہ پائیدار حل صرف میز پر بیٹھ کر ہی نکالے جا سکتے ہیں۔

نوٹ:youdigital.pk اوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

 

حافظ احسان احمد کھوکھر پاکستان کے ایک سینئر اور معروف ماہرِ آئین و بین الاقوامی امور (Constitutional and International Law) ہیں جو سپریم کورٹ آف پاکستان میں بطور ایڈووکیٹ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ مختلف اہم قانونی کیسز، جن میں ایف بی آر (FBR) اور حساس سیاسی کیسز شامل ہیں، میں پیروی کے لیے مشہور ہیں۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button