لاہور: پنجاب حکومت نے زرعی شعبے کو جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے چین کے ساتھ تعاون بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں زرعی منصوبوں اور کسانوں کی سہولت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں حکام نے بتایا کہ صوبے میں یوریا کی فروخت گزشتہ سال کے مقابلے میں 26 فیصد زائد رہی، جبکہ کھاد کی قیمتوں میں استحکام برقرار رہا اور بلیک مارکیٹ کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا گیا۔ پنجاب میں کھاد کی نہ کمی ہوئی نہ ہی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا۔
حکومت نے کسانوں کی مدد کے لیے 250 ارب روپے کے قرضے جاری کیے ہیں، جن میں سے 105 ارب روپے جنوبی پنجاب کے کاشتکاروں کو فراہم کیے گئے۔ بریفنگ کے مطابق کسان کارڈ کے ذریعے کسان 110 ارب روپے مالیت کی کھاد خرید چکے ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ 25 ارب روپے کی لاگت سے 30 ہزار گرین ٹریکٹر اور 10 ارب روپے کے 10 ہزار سپر سیڈرز کسانوں میں تقسیم کیے گئے۔ گرین ٹریکٹر اسکیم فیز ٹو کے 5 ہزار 30 ٹریکٹرز کی تیاری مکمل ہو چکی ہے، جن میں سے 3 ہزار 389 کسانوں کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔
پنجاب اور چین کے درمیان زرعی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 3 ایم او یوز پر دستخط بھی کیے گئے ہیں۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں 38 اقسام کے زرعی آلات پر 68 فیصد سبسڈی فراہم کی جائے گی، جس سے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔




