بین الاقوامی

آسٹریلوی حکومت کا نفرت پھیلانے والے غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کرنے کا اعلان

سڈنی: آسٹریلوی حکومت نے ملک میں نفرت پھیلانے والے غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ کینبرا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریلوی وزیراعظم نے کہا کہ اٹارنی جنرل اور وزیرِ داخلہ نفرت انگیز تقریر اور تشدد پر اکسانے والے افراد کے خلاف نئی اصلاحات پر کام کر رہے ہیں۔ ان اصلاحات میں نفرت انگیز تقریر کو فوجداری جرم قرار دینا اور ان افراد کے لیے سزاؤں میں اضافہ کرنا شامل ہوگا۔

نئی اصلاحات کے تحت آن لائن دھمکیوں اور ہراسانی کے مقدمات میں مجرموں کی سزا میں نفرت کو سنگین عنصر کے طور پر شامل کیا جائے گا۔ مزید برآں، حکومت ایک ایسا نظام تیار کرے گی جس کے ذریعے وہ تنظیمیں فہرست میں شامل کی جائیں گی جن کے رہنما تشدد یا نسلی نفرت کو فروغ دینے والی تقریروں میں ملوث ہوں۔

آسٹریلوی وزیراعظم نے مزید کہا کہ وزیرِ داخلہ کو نئے اختیارات دیے جائیں گے، جن کے تحت نفرت پھیلانے والے افراد کے ویزے منسوخ یا مسترد کیے جا سکیں گے۔ اس کے علاوہ، وہ افراد جنہیں نفرت پھیلانے کی کوشش کرنے کا شبہ ہو، ان کے ویزے بھی رد کیے جا سکیں گے۔

وزیراعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایک نئی 12 ماہ کی ٹاسک فورس قائم کی جائے گی جو آسٹریلیا کے تعلیمی نظام میں یہود دشمنی (اینٹی سیمیٹزم) کی روک تھام، اس سے نمٹنے اور اس کا مؤثر جواب دینے کے لیے اقدامات کرے گی۔

یہ اقدامات ایک حالیہ واقعے کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں سڈنی کے بونڈائی ساحل پر دو مسلح افراد نے فائرنگ کر کے کئی افراد کو ہلاک اور 40 افراد کو زخمی کر دیا تھا۔ ایک حملہ آور کو پولیس نے موقع پر گرفتار کر لیا تھا، جبکہ دوسرے کو جوابی فائرنگ میں مارا گیا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button