منی سوٹا : امریکہ میں سیاسی درجہ حرارت اس وقت مزید بڑھ گیا جب منی سوٹا کے شہر میناپولیس میں ایک ٹاؤن ہال اجلاس کے دوران مسلم رکنِ کانگریس الہان عمر کو نشانہ بنایا گیا۔ خطاب کے دوران ایک نامعلوم شخص نے ان پر بدبودار مائع پھینک کر ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ سکیورٹی حکام نے حملہ آور کو حراست میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ حملہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب الہان عمر بائیڈن-ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے اقدامات پر سخت تنقید کر رہی تھیں۔ وہ سٹیج پر کھڑے ہو کر وفاقی وزیر کرسٹی نوم کے مواخذے کی بات کر رہی تھیں، جن پر ایک نہتے شہری کی ہلاکت کے واقعے کو غلط رنگ دینے کا الزام ہے۔واقعے کا اصل تنازع اس وقت شروع ہوا جب منی سوٹا میں ایک احتجاج کے دوران ‘آئیس’ (ICE) اہلکاروں نے ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
سٹیفن ملر اور کرسٹی نوم نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والا شخص مسلح تھا اور خطرہ بن رہا تھا۔ الہان عمر نے انکشاف کیا کہ مقتول غیر مسلح تھا اور اسے قابو کرنے کے باوجود نشانہ بنایا گیا۔
الہان عمر، جو صومالیہ سے ہجرت کر کے امریکہ آئیں، ہمیشہ سے دائیں بازو کے انتہا پسندوں اور سابق صدر ٹرمپ کی تنقید کا مرکز رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے ان کی آواز کو دبانے کی کوشش ہیں، تاہم ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ ان دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے والی نہیں ہیں۔




