پاکستان
Trending

آپریشن "غضب للحق” ، پاک فوج کا افغان طالبان کی جارحیت پر کاری ضرب

 

اسلام آباد: پاکستان کی مسلح افواج نے سرحد پار سے ہونے والی مسلسل بلااشتعال فائرنگ اور شہری آبادی پر حملوں کے جواب میں باضابطہ طور پر آپریشن "غضب للحق” کا آغاز کر دیا ہے۔ اس آپریشن کے دوران افغان طالبان کے عسکری ڈھانچے کو غیر معمولی نقصان پہنچایا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع اور وفاقی وزیرِ اطلاعات کے مطابق، اب تک کی کارروائی کے اعداو شمار درج ذیل ہیں:133 ہلاک، زخمی جنگجو 200 سے زائد،تباہ شدہ چوکیاں 27 مکمل تباہ، 9 پر پاک فوج کا قبضہ،تباہ شدہ ساز و سامان 80 سے زائد ٹینک، توپ خانہ اور بکتر بند گاڑیاں، دو کور ہیڈکوارٹرزتباہ، 3 بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، 2 اسلحہ ڈپو
پاک فضائیہ کے شاہینوں نے سرحد پار ننگرہار، کابل، قندھار اور پکتیا میں طالبان کے اہم عسکری مراکز کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا۔ زمین پر پاک فوج نے باجوڑ، تیراہ، خیبر اور چترال سیکٹرز میں دشمن کی چوکیوں کو ملیامیٹ کر دیا۔ کرم اور مہمند سیکٹر میں بھی شدید جھڑپیں ہوئیں جہاں 8 طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ پکتیکا میں افغان طالبان کے اہم بٹالین ہیڈکوارٹرز اور لاجسٹک بیس کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
میدانِ جنگ میں شکست کھانے کے بعد افغان طالبان نے پاکستانی سویلین آبادی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ باجوڑ، لغڑئی کے مقام پر مارٹر گولے گرنے سے 3 خواتین سمیت 5 افراد زخمی ہو گئے۔ طالبان کی شیلنگ سے باجوڑ کی ایک مسجد کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس کی چھت اور دیواریں متاثر ہوئیں۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا "پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت سے وطن کا دفاع کیا ہے۔ افغان طالبان سوشل میڈیا پر فیک ویڈیوز کے ذریعے اپنی شکست چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔پاکستانی سکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی مزید جارحیت کا بھرپور اور فوری جواب دینے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button