نئی دہلی: بھارت کے معتبر تعلیمی ادارے، جو کبھی آزادانہ سوچ اور علمی مکالمے کا گہوارہ سمجھے جاتے تھے، اب مودی حکومت کے انتہا پسند نظریات اور سیاسی بیانیے کی ترویج کے مراکز میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ بھارتی جریدے ‘دی وائر’ کی تازہ ترین رپورٹ نے بھارتی جامعات میں سنسرشپ اور حکومتی مداخلت کے خوفناک حقائق بے نقاب کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، مودی حکومت نے تعلیمی اداروں کی خود مختاری پر براہِ راست حملہ کر دیا ہے۔ حال ہی میں ہونے والی ایک اہم کانفرنس کے دوران شدید سیاسی دباؤ دیکھا گیا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ اب بھارت کے اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی اداروں میں بھی حکومتی مرضی کے خلاف بات کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔
انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ (ICSSR) جیسے عوامی فنڈنگ سے چلنے والے اداروں کو آزادانہ تحقیق سے روک کر مودی حکومت کے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل پر لگا دیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے بعد اب مودی سرکار کا اگلا ہدف دانشور اور اسکالرز ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق، جامعات کی خود مختاری ختم کرنا مودی حکومت کے اس بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت بھارت کے سیکولر تشخص کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ نوجوان نسل کے ذہنوں میں انتہا پسند ہندوتوا نظریہ راسخ کیا جائے۔ تنقیدی سوچ رکھنے والے اساتذہ اور طلبہ کو تعلیمی میدان سے بے دخل کیا جائے۔
عالمی برادری نے بھارت میں بڑھتی ہوئی اس تعصب پسندی اور تعلیمی آزادی پر پابندیوں کو عالمی علمی معیار کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔




