راولپنڈی / پشاور: پاک فوج نے سرحد پار سے ہونے والی مسلسل مداخلت اور دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے آپریشن ’’غضب للحق‘‘ کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت خوست اور جلال آباد میں فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے اہم سٹریٹجک ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، اس تازہ ترین اور بھرپور عسکری کارروائی میں دشمن کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچا ہے۔ فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کا ایک اہم اور بڑا ایمونیشن ڈپو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ جلال آباد میں دہشت گردوں کے ایک اور اسلحہ ڈپو کے ساتھ ساتھ ان کی ڈرون سٹوریج سائٹ کو بھی کامیابی سے نشانہ بنا کر نیست و نابود کر دیا گیا ہے۔
حالیہ شدید حملوں کے نتیجے میں فتنہ الخوارج اور افغان طالبان رجیم کو مختلف محاذوں پر عبرتناک پسپائی کا سامنا ہے اور ان کا جنگی نیٹ ورک بکھر کر رہ گیا ہے۔سرحد پار بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آپریشن کے تناظر میں پشاور میں موجود امریکی قونصلیٹ جنرل نے عارضی طور پر اپنی تمام سرگرمیاں اور کام معطل کر دیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر احتیاطی طور پر کیا گیا ہے۔
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن ’’غضب للحق‘‘ دشمن کے خلاف پاکستان کی زیرو ٹالرنس پالیسی کا ثبوت ہے۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ ملکی دفاع کی خاطر کسی بھی حد تک جایا جائے گا اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔




