لاہور : دریائے چناب میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث اونچے درجے کا سیلاب گزر رہا ہے، جس نے مظفر گڑھ، جھنگ اور خانیوال کے متعدد دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ انتظامیہ نے فلڈ بندوں کو محفوظ رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق، ستلج، راوی اور سندھ کے مختلف مقامات پر بھی پانی کی سطح بلند ہو چکی ہے۔ ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر 3 لاکھ 53 ہزار، ہیڈ سلیمانکی پر 1 لاکھ 32 ہزار، اور میلسی ہیڈ سائفن پر 93 ہزار کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ادھر راوی میں بھی ہیڈ بلوکی پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 57 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے، جبکہ ہیڈ سدھنائی پر کمی دیکھی جا رہی ہے۔
سیلابی پانی نے مظفر گڑھ اور ڈی جی خان کے درمیان قومی شاہراہ کے ایک ٹریک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جبکہ محمد والا کے نواحی علاقوں میں بھی پانی داخل ہو چکا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں قائم فلڈ ریلیف کیمپوں میں سہولیات کی کمی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ لیاقت پور کے نور والا کیمپ میں متاثرین کو جانوروں کے چارے، ادویات اور خیموں کی فوری ضرورت ہے۔
دریائے سندھ پر گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجز پر بھی پانی کی آمد میں اضافہ ہوا ہے،
ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ادارے اور فوجی ٹیمیں صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں ممکنہ انخلا کے لیے تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔




