اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار سفارتی مذاکرات کی بحالی کے لیے نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جبکہ بین الاقوامی ذرائع نے اسلام آباد کو ممکنہ مذاکراتی مقام قرار دیا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان پس پردہ رابطوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے تاکہ دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ ہفتوں میں بیک ڈور سفارت کاری جاری رہی، جس میں مختلف علاقائی شراکت داروں کے ساتھ پاکستان کا نام بھی نمایاں طور پر سامنے آیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی رابطے کامیاب رہے تو آئندہ دنوں میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا امکان موجود ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، توانائی اور سیکیورٹی کے معاملات، اور عالمی طاقتوں کی بدلتی ترجیحات نے امریکہ اور ایران دونوں کو مذاکراتی راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اسی تناظر میں اسلام آباد کو ایک غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد مقام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی صدر نے حالیہ بیانات میں عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے بھی محدود سطح پر بات چیت کے لیے آمادگی کے اشارے ملے ہیں۔ تاہم حساس معاملات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات اسلام آباد میں منعقد ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مثبت پیش رفت تصور کیے جائیں گے۔




