کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئندہ مالی سال کے لیے 3 ہزار 562 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس فری بجٹ پیش کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے اور کم ازکم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔
بجٹ میں تعلیم، صحت، زراعت اور سماجی شعبوں کے لیے ترقیاتی پیکجز شامل کیے گئے ہیں۔ تعلیم کے لیے 25.9 ارب روپے اور صحت کے لیے 17.4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ تعلیمی معاونتی خدمات پر سیلز ٹیکس کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔
زرعی شعبے میں ریلیف کے تحت زرعی سپر ٹیکس کی استثنیٰ حد 150 ملین سے بڑھا کر 500 ملین روپے کر دی گئی ہے اور شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ زراعت اور لائیو اسٹاک کے منصوبوں کے لیے 6.3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
ترقیاتی بجٹ میں ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے لیے 39.5 ارب روپے اور سماجی تحفظ کے لیے 13.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
حکومت نے سیلاب متاثرین کے لیے 17 لاکھ گھروں کی تعمیر اور 2 لاکھ 75 ہزار مفت سولر ہوم سسٹمز کی تقسیم کا اعلان بھی کیا ہے، جبکہ ہاؤسنگ منصوبوں کے لیے 1.675 ارب ڈالر کے فنڈز حاصل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ میں انشورنس سیکٹر پر ٹیکس میں کمی اور این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کے حصے کے تحفظ کی یقین دہانی بھی شامل ہے




