سوئٹزرلینڈ:امریکہ اور ایران کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے کے لیے قائم کردہ "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” پر عمل درآمد کا آغاز ہو گیا ہے، جس کے تحت تکنیکی سطح کے مذاکرات کا اگلا دور آج سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس اہم ترین امن مشن کا حصہ بننے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں، جہاں پاکستانی وفد تہران اور واشنگٹن کے مابین مرکزی ثالث کے فرائض انجام دے گا۔
اس تزویراتی بیٹھک میں پاکستان کے ہمراہ قطر کا اعلیٰ اختیاراتی وفد بھی بطور ثالث شریک ہو رہا ہے تاکہ مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، اگلے 60 دنوں کے فریم ورک کے تحت ہونے والے اس دورے کا ایجنڈا انتہائی اہم ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کے لیے دوبارہ محفوظ بنانا، دونوں قوتوں کے مابین فوجی حملوں کا مستقل سدِباب اور ایران کے عالمی بینکوں میں منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے حساس تکنیکی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال شامل ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس وقت سوئٹزرلینڈ پر لگی ہوئی ہیں، جہاں پاکستان کی یہ کوششیں خطے کے مستقبل کا تعین کریں گی۔




