لاہور :پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پنجاب اسمبلی کے ایوان میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے 100 سے زائد ترقیاتی منصوبوں کا دفاع کرتے ہوئے ناقدین کو کرارا جواب دیا ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار کے ساتھ ایوان کو بتایا کہ پنجاب حکومت صوبے بھر میں یکساں ترقی کے وژن پر عمل پیرا ہے اور اپوزیشن کو حکومتی پروگرام نظر نہیں آ رہے جبکہ عوام ان سے براہِ راست مستفید ہو رہے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے مریم نواز حکومت کے فلاحی اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صرف جنوبی پنجاب کے اندر طلبہ کو 33 ہزار وظائف دیے جا چکے ہیں، جبکہ وہاں 13 ارب روپے کی بھاری لاگت سے ‘اسکول میل پروگرام’ شروع کیا گیا ہے جس میں اسکول سے باہر کے بچوں کو بھی شامل کر کے کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔
پنجاب میں 1100 الیکٹرک بسیں آ رہی ہیں جن کی بڑی کھیپ چند دنوں میں پہنچ جائے گی اور دسمبر تک صوبے کی کوئی تحصیل الیکٹرک بس سے خالی نہیں ہوگی۔ یہ منصوبہ سب سے پہلے جنوبی پنجاب سے شروع کیا گیا جہاں 125 بسیں دی جا چکی ہیں۔ حکومت فری ٹرانسپورٹ کے لیے 80 کروڑ روپے کی سبسڈی دے چکی ہے جبکہ طالبات کو الیکٹرک بائیکس بھی ملی ہیں۔
‘اپنی چھت، اپنا گھر’ اسکیم کے تحت جانچ پڑتال کے بعد جنوبی پنجاب میں بڑی تعداد میں گھر بنا کر دیے گئے ہیں اور کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے جاری ہیں۔سیاسی محاذ پر بات کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے نام لیے بغیر پیپلز پارٹی پر طنز کیا کہ "ہمارے کچھ اپنے بھی ہیں جنہیں اچانک جنوبی پنجاب کا خیال آ گیا ہے، محرومیاں تو کراچی اور پشاور میں بھی ہیں، کیا وہاں یہ الگ صوبہ مانگتے ہیں؟
پی ٹی آئی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی گفتگو میں عوام کے لیے کوئی بات نہیں تھی، ان کے ارکان شدید دباؤ میں ہیں اور سوشل میڈیا پر گالیوں سے بچنے کے لیے ایوان میں شور شرابہ کرتے ہیں اور علیمہ خان کو صفائیاں پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ 9 مئی کی تمام ویڈیوز موجود ہیں لیکن ثبوت مانگے جانے پر ان کے پاس جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔




