واشنگٹن: ایران کے خلاف ممکنہ جنگی کارروائیوں کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت کے اندر سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑ گیا، جہاں کانگریس نے جنگ روکنے کے مطالبے پر مبنی قرارداد منظور کرلی۔
قرارداد کے حق میں 50 اور مخالفت میں 40 ووٹ پڑے، جبکہ صدر ٹرمپ کی جماعت ری پبلیکن پارٹی کے متعدد ارکان نے بھی قرارداد کی حمایت میں ووٹ دے کر حکومتی مؤقف سے اختلاف کا اظہار کیا۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری ضروری ہونی چاہیے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
کانگریس کے حامی ارکان کا مؤقف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگ نہ صرف خطے بلکہ امریکہ کے سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق تنازعات کا حل فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ قرارداد کی منظوری صدر ٹرمپ کے لیے ایک اہم سیاسی پیغام ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے معاملے پر انہیں کانگریس میں متفقہ حمایت حاصل نہیں، جبکہ ان کی اپنی جماعت کے بعض ارکان بھی جنگی حکمتِ عملی پر تحفظات رکھتے ہیں۔




