راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں، دہشت گردوں کا گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے اور دشمن قوتوں کے عزائم ہر صورت ناکام بنائے جائیں گے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گرد معصوم عوام اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ذریعے خوف پھیلانے کی کوشش کرنے والے عناصر کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ گزشتہ چند روز کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جن کے جواب میں سکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کرتے ہوئے 54 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جبکہ ملک کے دفاع میں 42 جوان شہید ہوئے۔
انہوں نے زیارت میں پولیس چیک پوسٹ پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے مختلف اطراف سے حملہ کیا، تاہم پولیس اہلکاروں نے بہادری سے مقابلہ کیا اور 15 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ مقابلے کے دوران 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ دہشت گرد کچھ اہلکاروں کو یرغمال بنا کر لے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج اور رینجرز کے دستے اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچے اور کارروائی کرتے ہوئے مزید دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ان کے سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان پر حملے دشمن قوتیں کروا رہی ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ بلوچستان پاکستان کی اہمیت کا حامل صوبہ ہے۔ دشمن عناصر صوبے کے امن اور ترقی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، تاہم ان کے مقاصد کامیاب نہیں ہوں گے۔
کراچی میں رینجرز چیک پوسٹ حملے سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حملہ آوروں میں سے تین افغان شہری تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا افغانستان کو پاکستان کے استحکام سے مسئلہ ہے؟
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سکیورٹی فورسز ملک کے دفاع، عوام کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی جائے گی۔




