پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کا قیام ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ میں کسی غلطی اور ناکامی کی گنجائش نہیں اور امن کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پولیس فورس کو جدید اسلحہ، آلات، گاڑیوں اور دیگر ضروری وسائل کی فراہمی کے لیے ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی بھی کی جائے گی۔
پشاور میں امن و امان سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پولیس میں خالی آسامیوں پر فوری بھرتیاں کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے پولیس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور اسے ضروری سہولیات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
گورنر نے ضم اضلاع میں سیف سٹیز منصوبے شروع کرنے، پولیس تھانوں، چوکیوں اور چیک پوسٹوں سمیت دیگر انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس لائنز، تھانوں اور چیک پوسٹوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے تاکہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ عوام کا پولیس پر اعتماد بحال کرنا پائیدار امن کے لیے ضروری ہے۔ پولیس افسران عوام کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھیں، اوپن ڈور پالیسی اپنائیں اور شہریوں کے مسائل حل کرنے کو ترجیح دیں۔
اجلاس میں آئی جی پولیس ذوالفقار حمید، ایڈیشنل آئی جی کاشف عالم، چیف کیپیٹل پولیس آفیسر ڈاکٹر میاں سعید اور ریجنل پولیس افسران شریک ہوئے، جبکہ ضلعی پولیس افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم کی جانب سے صوبے کے لیے اعلان کردہ پیکج کا 70 فیصد حصہ ضم اضلاع میں خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی استعداد کار بڑھانے اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جا سکے۔




