اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی، حکومت نے مطالبہ تسلیم نہ کیا تو نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات میں مزید 7 سے 10 روز کی مہلت مانگی ہے، تاہم جماعت اسلامی مارچ کی تیاریاں جاری رکھے گی۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات کو بے نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کا دائرہ بڑھانے پر متفق ہوگئی ہے۔ حکومت پیٹرولیم لیوی مرحلہ وار ختم کرنے کی بات کررہی ہے، لیکن جماعت اسلامی کا واضح مؤقف ہے کہ لیوی فوری طور پر ختم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کا بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے، جبکہ عوام پہلے ہی مہنگائی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ موجودہ ریلیف پیکج سے عوام کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچ رہا، اس لیے حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور عوامی ریلیف کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے حکومت پر زور دیا کہ اسلام آباد مارچ شروع ہونے سے پہلے عوام کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے مطالبات پر پیش رفت نہ کی تو سڑکوں پر احتجاج ہوگا، تاہم حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی کے احتجاج کے باعث حکومت پیٹرولیم لیوی میں مجوزہ اضافے کے معاملے پر پیچھے ہٹی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ماضی میں بھی عوام کو ریلیف دلانے کے لیے طویل دھرنے دے چکی ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے حکومت آگاہ ہے اور اس کے پاس عوام کو ریلیف دینے کے مختلف راستے موجود ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ مہنگائی کے بوجھ میں کمی کے لیے عملی اقدامات کرے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے آئی ایم ایف سے نجات کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن عوام کو ریلیف دینے کے لیے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اسلام آباد مارچ سے دستبردار نہیں ہوگی اور نومبر کے وسط میں مارچ کرنے کی تیاری جاری رہے گی۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے مطالبات پر فیصلہ کرے۔




