اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے ان کی سیاسی زندگی، مختلف حکومتی ادوار میں شمولیت اور کشمیر کمیٹی کی سربراہی کا حوالہ دیا۔
خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان سمیت کوئی بھی آبِ زم زم سے دھلا ہوا نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مولانا نے مذہب اور سیاست کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے 40 سالہ سیاسی سفر کے دوران کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ سمیت مختلف عہدوں سے فائدہ اٹھایا اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ حکومتوں کا حصہ رہے۔
انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سیاسی جوڑ توڑ کے نتیجے میں اپوزیشن لیڈر بنے۔ خواجہ آصف نے مولانا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خود بھی کچھ شرم و حیا کرنی چاہیے۔
تہران مذاکرات کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ فیلڈ مارشل امن کے پیغامبر بن کر تہران گئے تھے۔ ان کے مطابق، وہاں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا اور یہ مذاکرات وزارت دفاع کے مینڈیٹ میں شامل نہیں تھے۔
خواجہ آصف کے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کی سیاسی تاریخ اور تہران مذاکرات سے متعلق حکومتی مؤقف نمایاں رہا۔




