واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایران جنگ کے سیاسی اثرات پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اختلاف کے بعد ان کے مستقبل کے سیاسی کردار اور 2028 کے صدارتی انتخابات میں ممکنہ امیدوار کے طور پر سامنے آنے کے امکانات پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
وینس نے ایران جنگ کو ری پبلکن جماعت کی وسط مدتی انتخابات میں ممکنہ شکست کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس تنازع کے باعث جماعت کو سینیٹ میں اکثریت سے محرومی کی سیاسی قیمت اگلے کئی برس تک ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں نائب صدر نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایران جنگ کے بدلے اگلے چھ برس تک سینیٹ میں اکثریت کھونا قابلِ قبول ہے تو اسے اپنے اس مؤقف کا کھل کر اظہار کرنا چاہیے۔
وینس کا یہ بیان امریکی سیاست میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ وہ اس سے قبل عوامی سطح پر ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ تاہم اطلاعات کے مطابق وہ نجی ملاقاتوں میں جنگ کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وینس کا حالیہ مؤقف 2028 کے صدارتی انتخابات سے قبل اپنی الگ سیاسی شناخت قائم کرنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی سے اختلاف کے ذریعے وہ ری پبلکن جماعت کے اندر اپنی سیاسی سوچ اور ترجیحات کو نمایاں کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ایران جنگ نے وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر بڑی حد تک اثر ڈالا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر انہیں دوبارہ فیصلہ کرنے کا موقع ملے تو وہ پھر بھی یہی راستہ اختیار کریں گے۔
ٹرمپ اور وینس کے بیانات سے دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران پالیسی پر اختلافات نمایاں ہوئے ہیں، تاہم صدر کی جانب سے وینس کے مؤقف پر فوری سخت ردعمل نہ آنے کو بھی سیاسی حلقوں میں اہمیت دی جا رہی ہے۔




