پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے حکومتی مراعات کی منصفانہ تقسیم کا معاملہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ الیکٹرک کاروں پر ٹیکس رعایت اور فنانسنگ کی سہولت کے ساتھ موٹر سائیکلوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے بھی مؤثر معاونت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
مجوزہ پالیسی کے تحت الیکٹرک کاروں کے لیے سازگار سیلز ٹیکس اور 10 ملین روپے تک فنانسنگ کی حد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق 8 ملین روپے کی پری ٹیکس گاڑی پر 17 فیصد ٹیکس رعایت سے خریدار کو 1.36 ملین روپے کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، جبکہ پاکستان ایکسلریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن پروگرام کے تحت الیکٹرک موٹر سائیکل کی خریداری پر 65 ہزار روپے سبسڈی دی جاتی ہے۔
فنانسنگ کی حد میں اضافے کو بھی تمام صارفین کے لیے یکساں فائدہ مند قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ڈاؤن پیمنٹ کی عدم دستیابی اور بینکوں کی آمدنی سے متعلق شرائط عام خریداروں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔
دوسری جانب الیکٹرک بسوں کے استعمال سے ڈیزل کے اخراجات میں کمی کے باعث سالانہ لاکھوں روپے کی بچت ممکن ہے،
تجویز میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کی پالیسی کو صرف مہنگی نجی گاڑیوں تک محدود رکھنے کے بجائے عام شہریوں، موٹر سائیکل صارفین اور پبلک ٹرانسپورٹ کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔




