اسلام آباد: حکومت کی نئی آٹو پالیسی کے تحت پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتیں کم ہونے کا امکان ہے، 50 ہزار ڈالر تک مالیت کی گاڑیوں کو مختلف ٹیکسوں سے استثنیٰ دینے کی تجویز پیش کردی گئی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز ہے، تاہم اس کا اطلاق آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہوگا۔
ماہرین کے اندازوں کے مطابق مجوزہ مراعات سے چیری کیو کی قیمت 55 لاکھ سے کم ہوکر 42 لاکھ روپے جبکہ جی اے سی آئیون یو ٹی کی قیمت 64 لاکھ سے کم ہوکر 50 لاکھ روپے تک آسکتی ہے۔
حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے بینک فنانسنگ کی حد ایک کروڑ روپے اور قرض کی ادائیگی کی مدت پانچ سال کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔
نئی پالیسی کا مقصد الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال بڑھانے، مقامی پیداوار اور آٹو انڈسٹری کی برآمدات کو فروغ دینا ہے۔




