پاکستان

جانوروں پر تشدد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والی خاتون گورفتار

سوشل میڈیا پر جانوروں کے ساتھ بدسلوکی اور قتل کی ویڈیوز شیئر کرنے پر لاہور میں ایک خاتون کو گرفتار کر لیا گیا۔ خاتون پر الزام ہے کہ اس نے اپنے گھر میں جانوروں پر ظلم کے مناظر اور گرافک مواد پوسٹ کیا، جس کے بعد شہریوں کی شکایات پر پولیس نے کارروائی کی۔

پولیس کے مطابق، متاثرہ خاتون نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر خون آلود خرگوش، چھوٹے پنجروں میں قید جانوروں کی تصاویر، اور یہاں تک کہ ایک بلی کے سر میں گولی مارنے کے دعوے پر مبنی پیغامات شیئر کیے۔ ان ویڈیوز اور پیغامات کی سوشل میڈیا پر شدید مذمت کی گئی اور کئی صارفین نے ان کے اکاؤنٹ کو رپورٹ کیا۔

ایک خاتون صارف کی جانب سے باقاعدہ شکایت کے بعد، پولیس نے اے ایس پی شہربانو نقوی کی نگرانی میں خاتون کے گھر پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران جانوروں کی باقیات، خون کے دھبے اور دیگر ثبوت برآمد ہوئے، جب کہ چند جانور زندہ حالت میں بھی ملے، جنہیں فوری طور پر پاکستان اینیمل ریسکیو سینٹراور پھر محکمہ وائلڈ لائف کے سپرد کر دیا گیا

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار خاتون نے دورانِ تفتیش کسی قسم کے پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا اور کارروائی کے وقت ہنستی رہی۔ پولیس کے مطابق مذکورہ خاتون گزشتہ دس برس سے دماغی بیماری کا علاج کروا رہی تھی اور طویل عرصے سے اپنے گھر میں تنہا رہائش پذیر تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کی ذہنی حالت کے پیشِ نظر اسے فوری طور پر ذہنی صحت کے ادارے میں منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ اس کے اہلِ خانہ سے رابطے کی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ مکمل پس منظر معلوم کیا جا سکے۔

اے ایس پی شہربانو نقوی نے کہا کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے مناظر نہایت تکلیف دہ تھے، اور متاثرہ خاتون نے سوشل میڈیا پر جس قسم کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں، وہ انتہائی پریشان کن تھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ والدین اور خاندان ایسے افراد کی نگرانی کریں جنہیں ذہنی دباؤ یا نفسیاتی مسائل کا سامنا ہو، تاکہ وہ خود کو یا دیگر جانداروں کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button