پاکستان

اردو زبان کے نفاذ میں تاخیر، لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو آخری مہلت دے دی

 

لاہور: لاہور ہائیکورٹ میں اردو زبان کے سرکاری دفاتر میں نفاذ نہ کرنے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے پنجاب حکومت کو جواب جمع کروانے کے لیے آخری مہلت دے دی، اور ریمارکس دیے کہ آئندہ مزید وقت نہیں دیا جائے گا۔

جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے ڈاکٹر شریف نظامی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ اردو زبان کے نفاذ سے متعلق کیس 2019 سے زیر التوا ہے، لیکن پنجاب حکومت کے وکیل ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ نے واضح ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ تمام سرکاری محکموں میں اردو زبان کو رائج کیا جائے، مگر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔

دوران سماعت پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت سے جواب جمع کروانے کے لیے مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "آئندہ کوئی مہلت نہیں دی جائے گی، جواب ہر صورت میں جمع کروایا جائے۔”

عدالت نے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے جواب جمع کروانے کی مہلت تو دے دی، تاہم کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button