چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) اور پی سی بی کی انتظامیہ پاکستان کرکٹ کے معیار کو بلند کرنے اور نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہی ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ لیگ میں کھلاڑیوں کو دی جانے والی انعامی رقم ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، جبکہ پی ایس ایل میں سرمایہ کاری کرنے والے بھی خاطرخواہ فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ایس ایل نوجوان کرکٹرز کے لیے اپنی صلاحیتیں نکھارنے کا بہترین پلیٹ فارم ہے اور بورڈ کا ہدف اسے دنیا کی نمبر ون لیگ بنانا ہے۔ دو نئی ٹیموں کی بڈنگ 22 دسمبر کو ہوگی، جو پہلے 15 دسمبر مقرر تھی۔
سابق کرکٹر وسیم اکرم نے کہا کہ پی ایس ایل کی کامیابی میں ہر اسٹیک ہولڈر کی محنت شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لیگ میں مقامی ٹیلنٹ کو بھرپور مواقع دیے جا رہے ہیں اور یہ شائقین کرکٹ کے لیے بہترین تفریح فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے نوجوان کھلاڑی صائم ایوب کی کارکردگی کی بھی تعریف کی۔
سابق کپتان اور تجزیہ کار رمیز راجہ نے کہا کہ پی ایس ایل نوجوان کرکٹرز کے لیے ایک ایسا ایونٹ ہے جہاں وہ سپراسٹارز کے ساتھ کھیل کر ٹیمپرامنٹ اور ہنر کو بہتر بناتے ہیں۔ سلمان علی آغا، سعود شکیل اور شان مسعود نے بھی لیگ کی اہمیت اجاگر کی اور کہا کہ پی ایس ایل نے انہیں بین الاقوامی کرکٹ کے لیے تیار ہونے اور غیر ملکی کھلاڑیوں و کوچز کے ساتھ تجربہ حاصل کرنے میں مدد دی ہے۔
پی ایس ایل کا آغاز لاہور قلندرز سے ہوا اور اس سے اب تک لیگ نے نوجوان ٹیلنٹ کو ابھرنے، شائقین کو تفریح فراہم کرنے اور پاکستان کرکٹ کو عالمی سطح پر مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔




