!
اسلام آباد :وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس لغاری نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں سوشل میڈیا پر بجلی سبسڈی کے خاتمے کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبروں کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے ریلیف ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ پروٹیکٹڈ صارفین کی آڑ میں غریبوں کا حق مارنے والے امراء کو فلٹر کرنے کے لیے ڈیجیٹل اسکریننگ کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ ریلیف صرف حقدار تک پہنچے۔
اویس لغاری نے پریس کانفرنس کے دوران حقائق کا آئینہ دکھاتے ہوئے بتایا کہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر توانائی کے ایشوز کو اچھالا جا رہا تھا جو حقائق کے بالکل برعکس ہے۔ حکومت گزشتہ 4 سال میں 2 کروڑ 15 لاکھ صارفین کو 527 ارب کا ڈسکاؤنٹ دے چکی ہے اور بجلی سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھا کر 423 ارب روپے تک پہنچا دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس وقت ملک کے 86 فیصد گھریلو صارفین پروٹیکٹڈ کیٹیگری کے تحت سبسڈی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بڑے بڑے سولر سسٹم لگانے والے متمول افراد بھی چوری چھپے اپنے بل 200 یونٹ سے کم رکھ کر پروٹیکٹڈ صارفین کی لسٹ میں گھس آئے ہیں اور مڈل و لوئر مڈل کلاس پر بوجھ بن رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک سوال کیا کہ "کیا ان امراء کا یہ ڈسکاؤنٹ لینا جائز ہے؟” اسی ناانصافی کا خاتمہ کرنے کے لیے حکومت نے بلوں پر کیو آر کوڈ کا نظام متعارف کرایا ہے۔
وزیرِ توانائی نے تمام پروٹیکٹڈ صارفین کو ہدایت کی کہ وہ اپنے بلوں پر موجود کیو آر کوڈ کو لازمی اسکین کریں کیونکہ حکومت کا پہلا ہدف تمام صارفین کو کیو آر کوڈ کے ذریعے میٹر سے لنک کرنا ہے۔ اب تک 20 لاکھ صارفین اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ انہوں نے وارننگ دی کہ اس ڈیجیٹل رجسٹریشن کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے اور ڈیٹا آنے کے بعد صرف اور صرف صحیح حقدار صارفین کو ہی ڈسکاؤنٹ جاری رکھا جائے گا جبکہ امراء کو اس فہرست سے نکال باہر کیا جائے گا۔




