اسرائیلی سائنسدانوں نے اعتراف کیا ہے کہ وائزمین انسٹیٹیوٹ آف سائنس پر ایرانی میزائل حملے نے ان کی کئی سال کی تحقیق کو تباہ کر دیا ہے، اور کچھ سائنسی منصوبے ایسے بھی ہیں جنہیں اب دوبارہ شروع کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 15 جون کو کیے گئے حملے میں انسٹیٹیوٹ کی دو تحقیقی عمارتیں براہِ راست میزائل کا نشانہ بنیں، جبکہ دیگر عمارتوں اور لیبارٹریز کو شدید نقصان پہنچا۔
ادارے کے نائب صدر برائے ترقی و ابلاغ، روئی اوزری نے بتایا کہ خوش قسمتی سے جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ اس وقت عمارتیں خالی تھیں۔ تاہم، کئی قیمتی سائنسی نمونے اور تجرباتی مواد مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
معروف سائنسدان ایلاڈ تساحور کا کہنا تھا کہ "کچھ تجربات پر ہمیں 6 ماہ سے زائد محنت لگی، لیکن سب کچھ راکھ ہوگیا۔ بعض تحقیق دوبارہ ممکن ہی نہیں۔”
Weizmann Institute: Zionist Military Science Hub Destroyed
Yesterday morning, we struck and severely damaged the Weizmann Institute of Science—a central hub for the Zionist regime’s nuclear and military research.
Deeply embedded in the Zionist military and intelligence… pic.twitter.com/Bhh18tmLMS
— Daily Iran Military (@IRIran_Military) June 20, 2025
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ ڈرون فوٹیج میں مکمل تباہ شدہ عمارتیں، جل کر خاک ہونے والی لیبارٹریز اور برباد شدہ سائنسی آلات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا پریس ٹی وی نے اسرائیلی معیشتی ویب سائٹ کیلکیلسٹ کے حوالے سے بتایا کہ حملے میں تقریباً 57 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا مالی نقصان ہوا ہے۔




