اسلام آباد: وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس لغاری نے ملک میں بجلی کے حالیہ بحران پر قوم کو اعتماد میں لیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ایندھن کی کمی اور ڈیموں کی صورتحال کے باعث سسٹم پر شدید دباؤ ہے اور حکومت بے بس نظر آتی ہے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو مہنگی بجلی سے بچانے کے لیے لوڈشیڈنگ کا کڑوا گھونٹ بھرنا پڑ رہا ہے۔
وزیرِ توانائی نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ اس وقت ملک کو مجموعی طور پر 4 ہزار میگاواٹ کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔ انہوں نے بحران کی وجوہات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا یکم اپریل سے ایل این جی کی بیرون ملک سے آمد بند ہے، جس سے ڈھائی ہزار میگاواٹ کا خسارہ ہوا۔
پانی کی کمی: پن بجلی کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 1530 میگاواٹ کم ہو کر 1671 میگاواٹ پر آگئی ہے۔ حکومت مجبوراً فرنس آئل سے 1440 میگاواٹ بجلی بنا رہی ہے تاکہ سسٹم کو چلایا جا سکے۔اویس لغاری نے پیک آورز (مصروف ترین اوقات) میں لوڈشیڈنگ پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ دیہی اور شہری علاقوں سمیت صنعتی شعبے میں بھی ایک جیسی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔دن کے اوقات میں کسی قسم کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی اور نہ ہی کی جائے گی۔اگر ہم مہنگی گیس خریدیں گے تو بجلی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی، اس لیے لوڈشیڈنگ کے ذریعے توازن برقرار رکھا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے عوام کو خوشخبری دی کہ یہ صورتحال عارضی ہے اور قطر سے سستی ایل این جی کے معاہدے اور پن بجلی کی پیداوار بڑھتے ہی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری سے بھی واٹر سیکیورٹی پر مشاورت ہوئی ہے اور جلد حالات بہتر ہوں گے۔
انہوں نے عوام سے پرزور اپیل کی کہ بجلی کے استعمال میں کفایت شعاری اپنائیں تاکہ رات کے اوقات میں سسٹم پر بوجھ کم ہو اور عوام کو کم سے کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ "آج رات کی صورتحال کل سے بہتر ہوگی۔”




