وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمٰی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کے نے لاہور اور پنجاب کی ترقی کا مشاہدہ ضرور کیا ہوگا، اور انہیں یہ فرق بھی نظر آیا ہوگا کہ ایک ترقی یافتہ صوبہ کیسے کام کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم دعوت دیتے ہیں کہ علی امین گنڈا پور اپنے وزراء کے ہمراہ پنجاب کا باقاعدہ مطالعاتی دورہ کریں تاکہ ہم انہیں اپنے ترقیاتی منصوبے دکھا سکیں، سکھا سکیں اور سمجھا سکیں کہ عوام کی خدمت کیسے کی جاتی ہے۔ وزیر اطلاعات پنجاب نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ توقع تھی گنڈا پور سیالکوٹ میں سوات سانحہ کے متاثرین کے گھروں کا دورہ کریں گے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
پریس کانفرنس کے دوران عظمٰی بخاری نے علی امین گنڈا پور کی سابقہ تنقید پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ "یہ وہی علی امین ہیں جن کے منہ سے وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے ہمیشہ توہین آمیز بات نکلی۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ پنجاب کی ترقی، خوشحالی اور امن کو سبوتاژ نہ کریں تو ہمیں ان کے جلسوں پر کوئی اعتراض نہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ اگر علی امین وزیراعلیٰ کے طور پر آئیں گے تو ہم ان کا بھرپور خیرمقدم کریں گے، لیکن اگر وہ بدمعاشی کے ساتھ آئیں گے تو ایسی کسی روش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اگر کوئی غیر سیاسی رویہ اپنایا جائے گا تو اس کی اجازت پنجاب میں نہیں دی جائے گی۔
عظمٰی بخاری نے یہ بھی کہا کہ صرف بڑھکیں مارنے سے سیاست نہیں چلتی، سیاسی لوگ سیاسی انداز سے ہی بات کرتے ہیں۔
0 7 1 minute read




