سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ان کی مداخلت کے باعث دنیا ممکنہ طور پر چھ بڑی جنگوں سے محفوظ رہی، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان متوقع ایٹمی تصادم بھی شامل تھا۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، "اگر میں نہ ہوتا تو دنیا میں اس وقت چھ جنگیں جاری ہوتیں۔ سب سے بڑی ممکنہ جنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان تھی، جو میری مداخلت کے بغیر اب تک لڑ رہے ہوتے۔”
انہوں نے مزید کہا، "میں نے دونوں ملکوں کو پیغام دیا تھا کہ اگر جنگ جاری رہی تو تجارت بند ہو جائے گی۔ چونکہ دونوں ممالک کو تجارت کی ضرورت تھی، اس لیے انہوں نے کشیدگی کم کی۔”
ٹرمپ نے کہا کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے بھی متعدد بار ثالثی کی کوشش کر چکے ہیں، لیکن "پیوٹن ہر بار مذاکرات کے بعد بھی میزائل داغ دیتے ہیں، جس پر میں ناراض ہوں۔”
سابق امریکی صدر نے افریقی ممالک کانگو اور روانڈا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "یہ دونوں ممالک 31 سال سے حالتِ جنگ میں تھے، مگر اب جنگ بندی کی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔”
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "ٹی وی پر دیکھ کر لگتا ہے کہ غزہ کے بچے بہت بھوکے ہیں۔ انہیں فوری طور پر خوراک اور تحفظ کی ضرورت ہے۔” انہوں نے حماس پر الزام عائد کیا کہ وہ تاحال 20 یرغمالیوں کو رہا کرنے پر آمادہ نہیں ہو رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے بھی اس بارے میں بات کی ہے اور انہیں کہا ہے کہ "آپ کو کوئی اور راستہ اختیار کرنا ہوگا۔”
0 9 1 minute read




