پاکستان

افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں جاری، پاکستان کا مؤقف درست ثابت:اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ

اسلام آباد: اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی چھتیسویں رپورٹ نے ایک بار پھر افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان کے دیرینہ تحفظات کو درست قرار دے دیا ہے۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2734 (2024) کے تحت پیش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (TTP)، داعش خراسان (ISKP)، القاعدہ، مشرقی ترکستان اسلامی تحریک (ETIM) اور ترکستان اسلامک پارٹی (TIP) جیسے دہشتگرد گروہ افغانستان میں نہ صرف محفوظ انداز میں موجود ہیں بلکہ انہیں افغان عبوری حکومت کی خاموش حمایت بھی حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کی ٹیم کے مطابق، ٹی ٹی پی کے پاس تقریباً 6,000 مسلح جنگجو موجود ہیں جنہیں افغان حکام کی جانب سے لاجسٹک اور آپریشنل تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس تعاون کی بدولت ٹی ٹی پی کے حملے مزید خطرناک اور مؤثر ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے درمیان قریبی رابطے موجود ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے معاون ہیں، چاہے ان کی شناخت مختلف ہو۔

ایک اور اہم نکتہ رپورٹ میں یہ سامنے آیا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور ٹی ٹی پی کے درمیان جنوبی افغانستان میں قریبی تعاون پایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ گروہ کم از کم چار تربیتی کیمپوں (جیسا کہ والی کوٹ، شورابک) میں مشترکہ سرگرمیاں انجام دیتے ہیں، جہاں القاعدہ کی جانب سے ان کو نظریاتی اور ہتھیاری تربیت دی جاتی ہے۔

رپورٹ نے داعش خراسان کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے کہ اس کے تقریباً 2,000 جنگجو افغانستان، وسطی ایشیا اور روس کے شمالی علاقوں میں سرگرم ہیں۔ افغان حکومت کی محدود کوششوں کے باوجود داعش کو مقامی عوام کی طالبان حکومت سے ناراضگی کا فائدہ مل رہا ہے۔

القاعدہ برصغیر (AQIS) کی افغانستان کے مختلف صوبوں میں موجودگی کی بھی تصدیق کی گئی ہے، جہاں وہ ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کو تربیت فراہم کر رہی ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ افغانستان کی سرزمین اب بھی دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، اور دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

دفتر خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا:
"پاکستان ایک عرصے سے عالمی اداروں کو خبردار کرتا آ رہا ہے کہ دہشتگرد گروہ افغانستان میں منظم ہو رہے ہیں۔ اب اقوام متحدہ نے بھی اس حقیقت کی تصدیق کر دی ہے۔ افغان حکام کو اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔”

رپورٹ کے بعد ماہرین کا خیال ہے کہ خطے میں سکیورٹی تعاون، انٹیلیجنس شیئرنگ، اور افغان حکومت پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button