پشاور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی سربراہ اور وفاقی وزیر برائے امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حکومت کے خاتمے کا امکان موجود ہے اور مناسب وقت پر اپوزیشن اراکین کی اکثریت ثابت کرکے سیاسی صورتحال میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 53 ارکان پر مشتمل مضبوط اپوزیشن اتحاد صوبے کی سیاست میں بڑا انقلاب لا سکتا ہے۔
یہ بات انہوں نے صوابی میں ن لیگ خیبرپختونخوا کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری حاجی دلدار خان کے خاندان سے تعزیت کے دوران کہی۔
امیر مقام نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کا خواہاں ہے، لیکن پی ٹی آئی اس سلسلے میں تعاون نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدالت میں زیر التوا مقدمات موجود ہیں جن کا سامنا انہیں قانونی طریقے سے کرنا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ 9 مئی کے مقدمات کا مسلم لیگ (ن) سے کوئی تعلق نہیں اور ملکی مفادات کے لیے تمام سیاسی جماعتیں مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا یوم استحصال کشمیر پر احتجاج مناسب نہیں تھا۔
امیر مقام نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت بھارت اور اسرائیل کو خوش کرنے کے لیے یوم آزادی پر ملک میں انتشار پھیلانے کی سازش کر رہی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت جشن آزادی کو شاندار طریقے سے مناتے ہوئے پاکستانی فوج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرے گی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام ہمیشہ مسلم لیگ کو حب الوطنی کی بنیاد پر ووٹ دیتے آئے ہیں اور آئندہ بھی ملک کی قیادت مسلم لیگ کے پاس رہے گی۔




